ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری؛ اربوں روپے کا ریلیف ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عوام کے لیے نئے مالی سال میں خوشی کی خبر ہے کہ ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کا امکان ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں چیئرمین وسیم مختار کی سربراہی میں حکومتی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ پاورپرچیز پرائس میں78پیسے سے لے کر 2 روپے 25 پیسے فی یونٹ تک کمی کا تخمینہ ہے اور اس کے نتیجے میں آئندہ مالی سال میں بجلی صارفین کو 140ارب سے400 ارب روپے تک ریلیف مل سکتا۔
حکام کے مطابق آئندہ مالی سال میں پاورپرچیز پرائس کا تخمینہ 24.
حکام کے مطابق بجلی کی قیمت میں 2 روپے کمی اور طلب میں 2.8 سے 5فیصد اضافے کا تخمینہ ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران ڈالر 300 روپے مقرر کیے جانے کا تخمینہ ہے۔
کیس آفیسر نے نیپرا کو بریفنگ میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے پاور پرچیز پرائس تخمینوں سے متعلق درخواست ہے۔ مختلف منظرناموں کے تحت بجلی کی قیمت میں واضح فرق متوقع ہے اور فی یونٹ اوسط قیمت 6.8 روپے سے 8.1 روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فیول لاگت ممکنہ اضافے کی وجہ سے بلند ترین 1,284,110 ملین روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈالر ریٹ، مہنگائی اور انٹرسٹ ریٹ بجلی کی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کم طلب اور بلند فیول لاگت والے منظرناموں میں قیمت زیادہ ہوگی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کی نسبت کچھ منظرناموں میں قیمت میں 24 فیصد کمی کا امکان ہے جب کہ این ٹی ڈی سی کے نقصانات کا تخمینہ 2.80 فیصد پر برقرار رہے گا۔
دورانِ سماعت نیپرا نے بجلی کی طلب بڑھنے کے وزارت توانائی کے دعوے پر سوالات کیے۔ چیئرمین نیپرا نے پوچھا کہ حالیہ سالوں میں بجلی کی طلب کم ہو رہی ہے تو کیسے اضافے کی توقع کر رہے ہیں؟۔
وزارت توانائی نے بتایا کہ جی ڈی پی گروتھ کی بنیاد پر بجلی کی طلب میں اضافے کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی وجہ سے طلب بڑھی ہے۔ اپریل میں بجلی کی طلب میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انڈسٹری نے اب گرڈ پر آنا شروع کردیا ہے۔ ٹیرف نیچے رہے گا تو بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔
سماعت میں وزارت توانائی نے آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کی فیول پرائس کے تخمینوں پر بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ بجلی پیداوار کے لیے گیس 1050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رہنے کا تخمینہ ہے۔ بیگاس کی قیمت جولائی تا ستمبر 4,962 روپے فی ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔ اکتوبر تا جون بیگاس کی قیمت 5,210 روپے فی ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھرکول کی قیمت جولائی تا ستمبر 20، اکتوبر سے جون تک 18 سے 19 ڈالر کا تخمینہ ہے۔ اسی طرح امپورٹڈ کوئلہ اے پی آئی 4 کی قیمت سال بھر 100 ڈالر فی ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔ امپورٹڈ کوئلہ آئی سی آئی 3 کی قیمت سال بھر 74 ڈالر فی ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔ امپورٹڈ کوئلہ آئی سی آئی 5 کی قیمت سال بھر 35 ڈالر فی ٹن کا تخمینہ ہے جب کہ برطانوی برینٹ کی قیمت جنوری 2026 تک 74 ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ ہے۔
نیپرا سماعت میں دی گئی ب ریفنگ کے مطابق مارچ 2026 سے جون تک برطانوی برینٹ 72 ڈالر فی بیرل کا تخمینہ ہے۔ فرنس آئل کی قیمت جولائی تا دسمبر 522، جنوری تا جون سے 508 ڈالر فی ٹن تخمینہ ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت پورے سال 264 روپے فی لیٹر برقرار رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
وزارت توانائی نے نیپرا اتھارٹی کو آئندہ مالی سال میں بجلی کی طلب پر بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں جی ڈی پی میں 3.6 فیصد اضافہ ہوگا۔ 2025-26 میں بجلی کی طلب میں 2.8 سے 5 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح 132 کے وی کی ڈیمانڈ ایک لاکھ 28 ہزار سے ایک لاکھ 31 ہزار ملین یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ بریفنگ کے مطابق 2024-25 کی تصدیق شدہ طلب ایک لاکھ 30 ہزار 876 ملین یونٹ رہی۔
حکام نے بتایا کہ 2023 میں بجلی طلب میں شدید کمی آئی جو 2024 میں کچھ بہتر ہوئی اور آنے والے سالوں میں بجلی کی طلب میں مستحکم اضافہ متوقع ہے۔
مزیدپڑھیں:معرکہِ حق: مودی کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر سابق بھارتی فوجی کے دھماکہ خیز انکشافات
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فی ٹن رہنے کا تخمینہ ہے میں بجلی کی طلب بجلی کی طلب میں آئندہ مالی سال وزارت توانائی بجلی کی قیمت مالی سال میں مالی سال کے کا امکان ہے ڈالر فی ٹن بتایا کہ کے مطابق ہے جب کہ فی یونٹ روپے فی کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔