Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:00:29 GMT

پاکستان کو سفارت کاری تیز کرنا ہوگی، خرم دستگیر

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

پاکستان کو سفارت کاری تیز کرنا ہوگی، خرم دستگیر

اسلام آباد:رہنما مسلم لیگ (ن) خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک چیلنج بلاشبہ ہے لیکن جس شدو مد سے صدر ٹرمپ نے اس کا اظہار کیا ہے، پاکستان کو واشنگٹن میں اور کچھ مغرب کے بڑے ممالک ہیں، وہاں سفارت کاری تیز کرنی ہوگی، اس بات کا بھی عندیہ دینا ہے کہ جو پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایک ریڈ لائن لگائی تھی اگر ہندوستان کوئی بھی کوشش کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے پانی کو موڑے یا اس کو روکے تو وہ پاکستان اس کو ہندوستان کی طرف سے اقدام جنگ سمجھے گا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ہم انڈیا کو بیک فٹ پر ڈالیں گے تبھی مذاکرات ہوں گے۔

رہنما تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پہلی جو ڈائرکشن تھی وہ یہی تھی ریزگنیشن کے حوالے سے، وہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کنوے کر دی گئی تھی، خان صاحب سے جو دوسری ملاقات ہوئی جس میں علیمہ خان خود تھیں تو وہاں جو دوسری ڈائریکشن آئی وہ یہی آئی کہ خان صاحب نے چیئرمین پی اے سی کی ڈسکریشن پر چھوڑا ہے کہ اگر وہ تحریک اور پی اے سی دونوں کو ہینڈل کر سکتے ہیں تو کوئی ایشو نہیں ہے اطلاعات یہی ہیں کہ جنید اکبر دونوں عہدوں پر کام کریں گے۔

سینئر تجزیہ کار کامران یوسف نے کہا کہ امریکا کی خواہش تو بالکل ہے امریکی صدر ٹرمپ غیر روایتی ہیں انہیں ڈرامائی کہتے ہیں، بہت سی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، اوورآل اگر سیریسلی آپ ان کو دیکھیں ڈسپیشنیٹلی ہو کر دیکھیں تو روس یوکرین جنگ میں جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن