بھارت نے اسرائیلی نمائندہ بن کر حملہ کیا بھرپور جواب سے غزہ کا بدلہ لے لیا : فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ) جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کا اتحاد تاریخ کا حصہ ہے، مودی سرکار نے اسرائیلی نمائندہ بن کر پاکستان پر حملہ کیا مگر ہم نے بھرپور جواب دے کر غزہ کا بدلہ لے لیا۔ کوئٹہ میں جے یو آئی کی جانب سے منعقدہ بھارت اور اسرائیل مخالف ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل پہلے دن سے پاکستان کا دشمن ہے، انڈیا نے اسرائیل کا نمائندہ بن کر پاکستان پر حملہ کیا۔ بھارت کو دندان شکست جواب اور عبرتناک شکست دے کر پاکستان نے غزہ کا بدلہ لے لیا۔ جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے حکمران خواب خرگوش میں مصروف تھے مگر ہم نے روز اول سے اسرائیل کی حمایت کی اور آئندہ بھی کریں گے جبکہ یہود ہنود ایک ہیں، اس معاملے پر پارلیمنٹ نے بھی جے یوآئی کا موقف تسلیم کرلیا۔ پاکستان کو مستقبل میں بھی انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ سے محتاط رہنا چاہیے، مسلم حکمران ہمت کریں تو اسرائیل کی قوت کو ختم کرسکتے ہیں۔ مودی نے طاقت کے بل بوتے پر تنازعات حل کرنے کی کوشش کی، اب تم بے چارے سے اسمبلی میں نہیں بیٹھا جارہا، اب مودی کو اسکی اپنی پارلیمنٹ لعن طعن کررہی ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ پاکستان میں آج مکمل یکجہتی موجود ہے اور قوم کا فقید المثال اتحاد نظر آرہا ہے، ہم اپنے اوپر غلط نظر ڈالنے والوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دریائے سندھ پر نہریں بنانے اور مائنز منرل ایکٹ سے بلوچستان کے پی متاثر ہونگے، آئین کے مطابق تمام صوبوں کو انکے وسائل پر حق و اختیار حاصل ہے۔اجتماعات نے امن کی آواز بن کر دنیا کو بتایا ہے ان کے سرکٹ جائیں گے لیکن جھکیں گے نہیں۔ جب غزہ پر حملہ ہوا تو مودی نے اسرائیل کی حمایت کی۔ پاکستان نے بھارت کو جواب دے دیا، میں تو کہتا ہوں اہل غزہ کا بدلہ لے لیا۔ ماضی میں حکمران اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف جا رہے تھے۔ اہل غزہ کو بتاتے ہیں وہ کسی حالت میں تنہا نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ عرب دنیا کے دورے پر ہیں، تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ اسرائیل جبر کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ اُمت مسلمہ اور اہل پاکستان اہل غزہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، میں اور انصارالاسلام غزہ کے ساتھ ہیں۔ مودی جی سندھ طاس معاہدے کا ضامن ورلڈ بنک ہے۔ مودی نے طاقت کے بل بوتے پر تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ عرب کے حکمران ہوش میں آئیں اور میدان میں اتریں۔ پاکستان بھارت کے غرور کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح ہیں، کوئی معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔ اب بھارت کے دریاؤں پر بات ہوگی کہ یہ تمہارے یا ہمارے؟ مودی پر بھارتی پارلیمنٹ بھی تنقید کے تیر برسا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: غزہ کا بدلہ لے لیا نے اسرائیل کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :