اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ ہمیں زیادہ مہنگی نہیں پڑی، مودی بری طرح پھنس چکا ہے۔ایک انٹرویو میں  انہوں نے  کہا کہ پاک بھارت بات چیت کیلئے نیوٹرل وینیو سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، اس وقت بھی صورت حال نازک ہے کوئی غلط بات نہیں کی جاسکتی۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کافی عرصے سے معاشی چیلنج کا سامنا کر رہا تھا، گزشتہ سال ڈیرھ سال سے ہماری معیشت تھوڑی بہت سانس لے رہی ہے، بھارت سے جنگ ہمیں اتنی مہنگی نہیں پڑی جتنی پڑ سکتی تھی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چین میں غربت ختم ہوچکی ہے، ٹیکنالوجی میں بڑا مقام حاصل کرلیا ہے، یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب برطانیہ دنیا کا طاقتور ترین ملک تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پائلٹس، سائبر واریئرز  نے بھارت کے پلے کچھ نہیں چھوڑا، حملوں سے بھارت کی ٹیکنالوجی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی، چینی مشنری اور آپریٹرز پاکستانی ہوں تو بڑی طاقت بن جاتی ہے، دنیا بھی سوچ رہی ہے کہ چین پاکستان کا کمبی نیشن طاقتور بن گیا ہے، ہم نے بارڈر کراس نہیں کیے لیکن ان کے سسٹم کو ڈس ایبل کردیا۔وزیردفاع نے بتایا کہ سیزفائر کے بعد بھارت میں تنقید کا سیلاب امڈ آیا ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں لوگ شکست پر مسلمانوں کے خلاف ردعمل دے رہے ہیں، بھارتی مسلمان خاتون فوجی افسر اور ان کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مودی جوتشیوں کو بڑا مانتے ہیں تو جوتشی ان کے ستاروں کا حال بھی بتا دیں، مودی کا ستارہ 13،14سال سے عروج پر تھا جسے اب زوال آرہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان