گجرات کے قصاب مودی کو دنیا نے رسواہوتے دیکھا ‘ گورنر پنجاب ’’نوائے وقت ‘‘ ہیڈ آفس کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
لاہور (ندیم بسرا) بھارت کو شکست فاش دینے میں فوج کا پچیس کروڑ عوام نے ساتھ دیا۔ قوم پاک فوج کے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ جھوٹ کا لبادہ اوڑھنے والے گجرات کے قصاب مودی کو دنیا نے رسوا ہوتے دیکھا۔ چین، ایران، ترکیہ اور آذربائیجان سمیت دوست ممالک کا شکریہ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اگر امریکہ کشمیر کا مسئلہ حل کر کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرے گا تو قوم اس کو نہیں مانے گی۔ پنجاب کو ایک بار پھر پیپلز پارٹی کا گڑھ بنائیں گے۔ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری پنجاب کا محاذ سنبھالنے کو تیار ہیں۔ شہیدوں کی وارث جماعت پیپلز پارٹی کے کارکن بلاول بھٹو کو وزیراعظم پاکستان بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے نوائے وقت گروپ کے ہیڈ آفس کے دورے پر کیا۔ سردار سلیم حیدر خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اس کے گھر پر شکست دی۔ اس پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ جس طرح آرمی چیف سید عاصم منیر سمیت پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد سدھو، پاک نیوی کے سربراہ اور جوانوں نے اس جنگ کے محاذ کو سنبھالا اور دشمن کو عبرتناک شکست دی وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اور سیاسی قیادت کے اعتماد کے ساتھ خصوصاً بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر سفارتی محاذوں پر قوم کا حوصلہ بلند رکھا اور تمام عالمی ذرائع ابلاغ کو پاکستان کے مثبت تاثر کو اجاگر کیا، یہ واقعی قابل ستائش ہے۔ اس جنگ میں پچیس کروڑ عوام خود ہتھیار لیکر بھارت کو شکست دینے کا جذبہ رکھتے تھے۔ چین نے ہمیں ٹیکنالوجی دی ہم اس کے شکر گزار ہیں مگر ہم نے اس کو ٹیسٹ کرکے چین کے دل بھی جیتے ہیںاور ان کا سر بھی فخر سے بلند کیا اور اس جنگ میں جن دوست ممالک نے ساتھ دیا وہ بھی قابل ستائش ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کشمیر پر ثالثی کرانے کو تیار ہے اور اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی شرط کے بدلے امریکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات منوانے کی کوشش کرے تو قوم اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اس سے فائدہ اٹھانے کی کوئی غیر ملکی طاقت کوشش نہ کرے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی رونقیں بحال ہونے کو تیار ہیں۔ بلاول بھٹو اور آصفہ زرداری عنقریب ڈیرے گورنر ہائوس ڈالیںگے۔ دونوں نوجوان نسل کی نمائندگی کرنے والی قیادت پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ وہ دن دور نہیں جب مرکزی قیادت اپنے کارکنوں اور نوجوان نسل کے درمیان ہوں گے، اس کے لئے مکمل لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت بلاول بھٹو اور آصفہ زرداری اپنی والدہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرح اپنی لیڈرشپ، ورکرز اور نوجوان نسل کو جلدی ملنا شروع کریں گی اور یہی نوجوان نسل اور ورکرز شہیدوں کی وارث جماعت پیپلزپارٹی کو بلاول بھٹو کی صورت میں وزیراعظم پاکستان بنائیں گی۔ اس موقع پر نوائے وقت گروپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ سید احمد ندیم قادری نے نوائے وقت کے اس جنگ میں مثبت کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نوائے وقت اور پیپلز پارٹی کی پرانی رفاقت کو بھی بیان کیا اور کہا کہ نوائے وقت نے پیپلز پارٹی کی تمام تحریکوں میں مثبت رپورٹنگ کی ہے۔ اس موقع پر ایڈیٹوریل انچارج سعید آسی، ڈائریکٹر مارکیٹنگ بلال محمود، میگزین ایڈیٹر خالد بہزاد ہاشمی، مدیر ماہنامہ پھول شعیب مرزا، نمائندہ خصوصی خاور سندھو سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نوجوان نسل نوائے وقت پارٹی کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔