ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے دورے میں اسرائیل کو سائڈ لائن کردیا: ملیحہ لودھی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے دورے میں اسرائیل کو بالکل سائڈ لائن کردیا۔
جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا دورہ انتہائی اہم تھا، بظاہر ان کا دورہ میگا ڈیلز پر مبنی تھا، روز لگتا ہے ٹرمپ اپنے ملک کی خارجہ پالیسی نئے سرے سے لکھتے ہیں۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ پوری صورتحال میں امریکا انگیج رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے حوثیوں سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا، انہوں نے سعودی عرب میں کہا کہ ایران سے نیوکلیئر ڈیل کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ شام کے صدر کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، امریکی صدر نے شام پر پابندیاں ختم کردیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی نہیں ہوئی، اس پر افسوس ہے، وہاں قحط کی صورتحال ہے، صدر ٹرمپ نے ابھی تک اسرائیل کو نہیں روکا، اسرائیل غزہ میں بم باری کیے جارہا ہے۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کوشش رہی ہے کہ خلیجی ممالک کو چین سے دور کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملیحہ لودھی نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔