رجب بٹ کو اہلیہ کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے پر تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستان کے مشہور یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
اس مرتبہ انہیں اپنے ایک ویلاگ میں اہلیہ ایمان بٹ کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ولاگ میں ان کے رویے نے کئی ناظرین کو مایوس کیا ہے۔
رجب بٹ کے اس نئے فیملی ڈنر ولاگ کو ان کے مداحوں کی جانب سے پسند کیا جارہا ہے تاہم کچھ شائقین نے ان کے اہلیہ ایمان کے ساتھ رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں رجب نے اپنی بہن غزل کو کھانے کی پیشکش کی، مگر اہلیہ کو بلکل نظر انداز کر دیا، جو ان کے مداحوں بلکل بھی پسند نہیں آیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے یوٹیوبر کے اس رویے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اچھے بھائی اور بیٹے ضرور ہوں گے، مگر اچھے شوہر نہیں بن سکے۔ کئی صارفین نے ان کی اہلیہ کی برداشت کو سراہا اور رجب بٹ کو بیوی کے حقوق کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا۔
یاد رہے کہ رجب بٹ کے یوٹیوب پر 6.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔