پاکستان نے لاس اینجلس میں 2028 کے اولمپک کھیلوں میں کرکٹ کی تاریخی واپسی کے لیے اپنی بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یہ کرکٹ کی پہلی بار پیرس 1900 کے بعد دوسری بار اولمپکس میں شمولیت ہوگی۔

ایل اے 2028 کی تنظیمی کمیٹی مردوں اور خواتین کے کرکٹ مقابلے یکم جولائی سے 29 جولائی تک منعقد کرے گی، جس میں ہر کیٹگری میں 6 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ امکان ہے کہ کوالیفائنگ مرحلہ علاقائی بنیادوں پر ہوگا۔ بھارت (ایشیا) اور آسٹریلیا (اوشیانا) اپنے رینکنگ کی بنیاد پر براہ راست کوالیفائی کر جائیں گے، جبکہ دیگر ممکنہ ٹیموں میں برطانیہ، جنوبی افریقہ اور میزبان امریکا شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: اولمپکس 2028: کرکٹ کے کوالیفائنگ فارمولے پر اتفاق، پاکستان کے لیے بُری خبر

چھٹی اور آخری جگہ کے لیے مختلف ممالک میں مقابلہ ہوگا جس میں کیریبین ممالک یا کوئی اور ایشیائی ٹیم شامل ہو سکتی ہے۔ موجودہ کوالیفیکیشن معیار کے باعث پاکستان اور نیوزی لینڈ کے اولمپکس میں شامل ہونے کے امکانات خطرے میں ہیں، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ایل اے گیمز کمیٹی کو خطوط بھیجے گا تاکہ کم از کم ایک سال قبل کوالیفیکیشن کی واضح تاریخ مقرر کی جائے۔ سابق کپتان راشد لطیف نے بھی پی سی بی سے کہا ہے کہ وہ ان اداروں سے رابطہ کرکے مارچ 2028 میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نتائج کو کوالیفیکیشن معیار بنانے کی سفارش کرے۔

مزید پڑھیں: 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ سمیت 5 نئے کھیل شامل

آئی سی سی ٹی 20 رینکنگ میں پاکستان 8ویں نمبر پر ہے اور آنے والے میچوں میں اچھی کارکردگی سے ٹیم اپنی پوزیشن بہتر کرکے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

پی سی بی اس موقع کو قومی فخر بڑھانے اور پاکستانی کرکٹ کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اگلے چند ماہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہوں گے تاکہ وہ 2028 کے اولمپک کرکٹ مقابلوں میں اپنی جگہ پکا کر سکے اور کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا اولمپکس 2028 پاکستان کرکٹ پی سی بی نیوزی لینڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا اولمپکس 2028 پاکستان کرکٹ پی سی بی نیوزی لینڈ پی سی بی کے لیے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی