کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں سے اربن فلڈنگ کا خدشہ، محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
کراچی:
18اگست کی شب مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شہر کا رخ کرے گا، ابتدا میں معتدل بارش کا امکان جبکہ 20 اور21 اگست کو گرج چمک کےساتھ موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کےمطابق بھارتی راجستھان پر موجود سائیکلولنک سرکولیشن کے اثرات 18اگست کی شام تا رات کراچی میں داخل ہونگے،جس کے نتیجے میں ابتدائی طورپر ہلکی سے درمیانی شدت کی بارشوں کا امکان ہے جبکہ 20 اور21 اگست کو گرج چمک کےساتھ تیز اور موسلادھار بارشیں ہوسکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیرضیغم کا ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سسٹم سے متعلق سیٹلائٹ سے موصولہ تصاویر کے مطابق مون سون کا نیا سلسلہ اس وقت بھارتی راجستھان پر موجود ہے،جس کے تحت دیہی سندھ کے تھرپارکر اور عمرکوٹ کے قرب وجوار میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پیرکی شام تا رات یہ سلسلہ کراچی کا رخ کرےگا جبکہ بدھ، جمعرات (20تا21اگست) کراچی میں تیز بارشوں کے کئی اسپیل متوقع ہے، جس کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
انجم نذیر کے مطابق ابھی ان بارشوں کی ملی میٹر میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی البتہ یہ سسٹم کبھی کبھار ہیوی بارشوں کا سبب بن سکتا ہے۔
موسم کی غیرسرکاری سطح پر پیش گوئی کرنے والے ادارے ویدرڈاٹ پی کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق سندھ و راجستھان ریجن پر بنی سائیکونک سرکولیشن بتدریج جنوب مغرب کی جانب بڑھ رہی ہے، ہندوستانی کچ میں موجود سسٹم کی وجہ سے دیہی سندھ قریب کے اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
مذکورہ سرکولیشن پاکستان کے جنوبی علاقوں کی طرف بھی مون سون ہواوں کو کھینج رہا ہے،کراچی میں اس گردش کی وجہ سے سمندری ہواوں کی رفتار کم ہورہی ہے،تاہم شہر میں نچلی سطح کے بادل بھی بن سکتے ہیں، جس کے سبب شمال مشرقی علاقوں میں پھوار اور ہلکی بارش ہو سکتی ہے، 20 اگست کو کراچی میں تیز بارشوں کے 2 تا 3 اسپیل متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کراچی میں بارشوں کا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔