ہماری فورسز نے”گھوڑے تیار رکھو“ والا قرآنی سبق یاد رکھا، خرم نواز گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
سیکرٹری جنرل پی اے ٹی کا کہنا ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی پر کام کرنیوالے سائنسدانوں مشکل میں ساتھ دینے والے دوست ملکوں کو بھی سلام۔ عظیم الشان دفاع پاکستان نہیں پورے عالم اسلام کی کامیابی ہے۔ بھارت نے غلط وقت کا انتخاب کیا اور غلط توقعات وابستہ کیں۔ اسلحہ یا فوج نہیں قوموں کے عزم اور جذبے لڑتے ہیں، جذبہ شوق شہادت کا کوئی توڑ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے یوم تشکر پر پوری قوم اور افواج پاکستان، میزائل ٹیکنالوجی پر دن رات کام کرنیوالے سائنسدانوں اور بھارت کے یکطرفہ حملہ کو ناکام بنانے والے دوست ملکوں کو مبارکباد دی ہے اور ان کا شکریہ ادا کیا ہے، پاکستان کا شاندار دفاع صرف پاکستان کی کامیابی نہیں بلکہ اس پر مشرق تا مغرب اسلامی ملکوں کے عوام کی طرف سے جشن کا سماں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر طرف سے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے، جس کا دل چاہتا ہے وہ کسی مسلمان ملک پر حملہ کر دیتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، اس ماحول میں افواج پاکستان نے قوت، اخوت عوام کی طاقت سے اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کو منہ توڑ، اور عبرتناک جواب اور سبق دے کر پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کو خوش کر دیا ہے، افواج نے قوت، اخوت عوام کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا۔ ہماری فورسز نے”گھوڑے تیار رکھو“ والا قرآنی سبق یاد رکھا۔ دشمن کے مقابلے میں بہترین جنگی ٹیکنالوجی حاصل کر ثابت کر دیا کہ ہماری افواج معاشی مسائل کے باوجود دفاع پاکستان کے مقدس فریضے سے غافل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے میڈیا کو اخلاقی اور پیشہ وارانہ تربیت کی اشد ضرورت ہے۔میزائل ٹیکنالوجی پر کام کرنیوالے سائنسدانوں مشکل میں ساتھ دینے والے دوست ملکوں کو بھی سلام۔ عظیم الشان دفاع پاکستان نہیں پورے عالم اسلام کی کامیابی ہے۔ بھارت نے غلط وقت کا انتخاب کیا اور غلط توقعات وابستہ کیں۔ اسلحہ یا فوج نہیں قوموں کے عزم اور جذبے لڑتے ہیں، جذبہ شوق شہادت کا کوئی توڑ نہیں۔ دشمن جان لیں کوئی لڑ کر ہمیں شکست نہیں دے سکتا، بھارت پانی بند کرنے والی بچگانہ سوچ سے باہر نکلے۔ سیز فائر قبول کرکے ثابت کر دیا امن ہماری خواہش ہے، کمزوری نہیں۔بھارت جنگی جنون اور فلمی ماحول سے باہر نکلے دونوں ملکوں کا اصل دشمن غربت ہے۔
دریں اثنا منہاج یونیورسٹی لاہور میں اظہار تشکر پر خصوصی تقریب ہوئی اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے، جامع شیخ الاسلام میں نماز جمعہ کے اجتماع نے ملکی سلامتی کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور شاندار دفاع وطن پر اللہ کا شکر ادا کیا گیا اور افواج پاکستان کو مبارک باد دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔