پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام ملک بھر میں ''یومِ تشکر'' منایا گیا ، پاکستانی قوم نے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا دیا،حافظ طاہر محمود اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 مئی2025ء) پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام جمعہ کے روز ملک بھر میں ''یومِ تشکر''منایا گیا جس کا مقصد حالیہ معرکہ حق میں کامیابی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ اس موقع پر ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں علما، خطبا، ذاکرین اور واعظین نے خطبات اور بیانات کے ذریعے عوام کو وطن کے دفاع اور اتحادِ امت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
علمائے کرام نے اپنے خطبات میں پاکستان کی حالیہ کامیابی کو اللہ کی نصرت اور قوم کی یکجہتی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معرکہ صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ نظریاتی، اخلاقی اور قومی ہم آہنگی کی جیت بھی ہے۔ اس موقع پر پاک فوج کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔(جاری ہے)
علما نے کہا کہ پاکستانی قوم خصوصا مذہبی طبقات ہر آزمائش میں افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ ہم اپنے ان غیر مسلم ہم وطنوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر وطن عزیز کے دفاع کا حق ادا کیا ہے، یہ پاکستان کی وہ خوبصورت تصویر ہے جس میں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ قومی سلامتی کے لیے متحد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دشمن چاہتا تھا کہ پاکستان میں فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور تقسیم کو ہوا دے لیکن الحمدللہ پاکستانی قوم نے اتحاد و اتفاق سے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ۔ علما و مشائخ نے لوگوں کو پیغام دیا کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر موجود گمراہ کن پراپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور صرف معتبر ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔اس موقع پر خطبا اور علما نے بھارت میں ترکیہ، بنگلہ دیش اور آذربائیجان جیسے برادر اسلامی ممالک کے خلاف جاری منفی مہم کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتا ہے اور ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ علما نے کہا کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ ان ممالک کے خلاف ہونے والی سازشوں کا نوٹس لے اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کی بات کرے۔پاکستان علما کونسل کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جو اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اگر کسی نے اس کی سالمیت کو چیلنج کیا تو پوری قوم پاک فوج کے ساتھ مل کر اس کا بھرپور جواب دے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان علما کونسل کہ پاکستان کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔