پاکستان اروناچل پردیش کے معاملے پر چین کی حمایت کرتا ہے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستان اروناچل پردیش کے معاملے پر چین کی حمایت کرتا ہے، دفتر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے اروناچل پردیش کو اپنا علاقہ قرار دینے سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، ہم چین کی خود مختاری اور سالمیت کی حمایت کرتے ہیں۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاک بھارت جھڑپوں میں جوہری تابکاری کے حوالے سے بھارتی رپورٹیں بے بنیاد ہیں، جنگ بندی پر پاک بھارت ڈی جی ایم اوز 10 مئی سے وقتاً فوقتاً رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی صورتحال رہی، بھارت کی جارحیت کی وجہ سے خطے میں امن کی صورتحال بگڑی۔ بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے دشمن کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو پروپیگنڈے کے ذریعے جھٹلائی نہیں جا سکتی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے مسلح افواج نے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے لیے جوابی کارروائی کی، پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص کا انعقاد کیا گیا۔ ہمارے جواب کے پیچھے محرکات سب کے سامنے واضح تھے، پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ جنگ بندی بہت سارے دوست ممالک کی کوششوں سے کامیاب ہوئی اور پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارت اس سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ خود مختاری کی حفاظت اور احترام ہی اصل میں اہم ہے، دونوں ڈی جی ایم اوز مرحلہ وار تناؤ میں کمی کے میکنزم پر کام کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج نے بھارت کے 6 جنگی طیارے گرائے اور ہمارا جواب پاکستان کی صلاحیت بتانے کے لیے اہم تھا۔ پاکستان ایئر فورس کو اپنے حدود کی خلاف ورزی کرنے اور اپنے حدود میں رہ کر کارروائی کا مینڈیٹ ملا تھا۔
شفقت علی خان نے کہا کہ ہمارے نپے تلے جواب نے ہماری خود مختاری و سالمیت کے لیے ہمارے عزم کا اعادہ کیا، مستقبل میں بھی کسی جارحیت کا پھر پور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے بھارت کی جارحیت سے متعلق اپنے تمام دوست ممالک کو آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 14 مئی کو ہندوستان کے بارڈ سیکیورٹی کے اہلکاروں کو انڈیا کے حوالے کیا، بدلے میں ہندوستان نے پاکستان کو رینجرز کا نوجوان واپس کیا۔ پاکستان ایک پر امن اور امن پسند ملک ہے لیکن ہماری امن سے محبت کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاک بھارت جنگ بندی خطے میں امن کے لیے ضروری تھی، پاک بھارت جنگ بندی پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کا شکریہ۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی جی ایم اوز کی ملاقاتوں میں بھی جنگ بندی اور امن پر زور دیا گیا لیکن ہم بین الاقوامی ممالک سے پھر کہتے ہیں انڈیا کو کسی بھی جارحیت سے روکا جائے، پاکستانی آرمڈ فورسز ہمیشہ تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دیں گے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بحالی پر یقین رکھتا ہے، مذاکرات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سمیت تمام معاملات کا حل چاہتا ہے اور جب بھی باہمی مذاکرات ہوں گے کشمیر پر بات چیت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی پر بات چیت سے ہچکچاتا نہیں ہے، ہم خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے مسئلے کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن بھارت خود دہشت گردی کا پشتی بان رہا ہے اور ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ ہمارے پاس بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے شواہد موجود ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ قریبی، ٹھوس اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ برطانوی سیکریٹری خارجہ اس وقت پاکستان میں ہیں، ان کے دورے کے اختتام پر تفصیلی بیان جاری کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان نے پہلا مقامی گرین سکوک بانڈ جاری کردیا، اسلامی قرضوں کا حجم 14 فیصد بڑھ گیا پاکستان نے پہلا مقامی گرین سکوک بانڈ جاری کردیا، اسلامی قرضوں کا حجم 14 فیصد بڑھ گیا قومی اسمبلی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 سمیت متعدد اہم بلز منظور کرلیے پی ٹی آئی کا عمران خان کی رہائی اور حکومت مخالف بھر پور تحریک چلانے کا فیصلہ وزیراعظم کا برآمدات، سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کا فیصلہ عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی اہم مقدمہ سے بری ہوگئے صدر مملکت کی شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد، اہلخانہ کے ساتھ اظہارِ تعزیتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شفقت علی خان نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان نے کہا کہ پاک پاکستان نے پاک بھارت بھارت کی انہوں نے کرتا ہے چین کی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔