Daily Ausaf:
2026-06-03@00:45:05 GMT

مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو اس کشیدگی کے دوران ثالثی کے کردار میں سامنے آئے، نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا اعلان کروایا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے ثالثی کرنے کو تیار ہیں۔ پاکستان نے ان کے بیان کا خیرمقدم کیا، کیونکہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی ثالثی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔
دوسری جانب، بھارت اس موقف کو مسترد کرتا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جموں و کشمیر اس کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے اور یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے، اس لیے کسی بیرونی ثالثی یا بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ بھارت کی یہ کہنا کہ صرف اس موضوع پر بات ہوسکتی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کب بھارت کے حوالے کیے جائیں گے ایک غیر حقیقت پسندانہ اور جابرانہ رویہ ہے۔
پاکستان کا اصولی اور انصاف پر مبنی مقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں، اور کشمیری عوام کی رائے کی روشنی میں حل ہونا چاہیے۔ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ یہی وعدہ اقوام متحدہ نے کیا تھا، اور خود بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کشمیری عوام سے ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا تھا۔
تقریباً پون صدی گزر چکی ہے، لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔ کشمیری عوام مسلسل جبر، تشدد، جبری پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان اور بھارت کے عوام غربت، بے روزگاری، اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے دوچار ہیں، مگر دونوں ممالک اپنے دفاعی بجٹ پر اربوں روپے خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو یہ وسائل تعلیم، صحت اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔
دنیا ایک اور جنگ، بالخصوص دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان، کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ اگر فوری مداخلت نہ کی جاتی تو یہ کشیدگی ایٹمی تصادم میں بدل سکتی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو اس کشیدگی کے دوران ثالثی کے کردار میں سامنے آئے، نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا اعلان کروایا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے ثالثی کرنے کو تیار ہیں۔ پاکستان نے ان کے بیان کا خیرمقدم کیا، کیونکہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی ثالثی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔
بھارت کی جانب سے اس موقف کی ہمیشہ مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جموں و کشمیر اس کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے، لہٰذا یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ تاہم، یہ دعوی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف ہے۔ 1948 ء اور 1949 ء کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی سے کیا جائے گا۔1957 ء میں بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے آئین میں شامل کرلیا، لیکن اقوام متحدہ نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔ آج بھی اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر مسئلہ کشمیر ایک ’’حل طلب تنازعہ‘‘ کے طور پر درج ہے۔کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے مسلسل جبر، ظلم، کرفیو، جبری گمشدگیوں، اور ماورائے عدالت قتل جیسے سنگین مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ بارہا بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ خاص طور پر 5 اگست 2019ء کے بعد جب بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت چھینی، اس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔
حالیہ ماہ مئی میں پاک بھارت کشیدگی اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج سے بھارتی قیادت کی آنکھیں کھل جانی چاہئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کی قیادت اور عوام اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھیں۔ یہ مسئلہ کسی جنگ یا فتح و شکست سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی رضامندی اور دونوں ممالک کے باہمی اتفاق سے حل ہوگا۔ نہ بھارت فوجی طاقت سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کرسکتا ہے، نہ پاکستان جنگ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر حاصل کرسکتا ہے، اور نہ ہی کشمیری عوام اکیلے اپنی آزادی حاصل کرسکتے ہیں اور نہ تقسیم کشمیر اور کنٹرول لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنا حل ہے۔ تو پھر آخر اس کا حل کیا ہے؟
اس مسئلہ کا ایک ممکنہ، پرامن اور قابلِ عمل حل یہ ہو سکتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کو ایک محدود مدت کے لیے اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ میں دے دیا جائے۔ اس دوران ریاست کے دونوں حصوں کے عوام پر آنے جانے کی پابندیاں ختم ہوں، پاکستان اور بھارت مشترکہ انتظامی کردار ادا کریں، اور اقوام متحدہ نگرانی کرے۔ دس سال کے بعد آزادانہ اور شفاف ریفرنڈم کے ذریعے کشمیری عوام سے فیصلہ کروایا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں بھارت کے ساتھ الحاق، پاکستان کے ساتھ شمولیت یا مکمل آزادی۔
یہ کوئی نئی تجویز نہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کونسل نے دنیا کے کئی علاقوں میں ایسے مسائل پرامن طریقے سے حل کروائے ہیں۔ مشرقی تیمور، نمیبیا، اور پالا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔مشرقی تیمور کی انڈونیشیا سے آزادی کے لیے اقوام متحدہ نے 1999 ء میں ریفرنڈم کروایا۔ عوام کی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا، اور 2002 ء میں مشرقی تیمور ایک آزاد ملک بن گیا۔
جنوبی سوڈان میں طویل خانہ جنگی کے بعد، اقوام متحدہ کی نگرانی میں 2011 ء میں ریفرنڈم ہوا، اور جنوبی سوڈان ایک نئی ریاست کے طور پر قائم ہوا۔نمیبیا کے جنوبی افریقہ کے قبضے سے آزادی کیلئے اقوام متحدہ نے لمبی جدوجہد کے بعد 1990 ء میں خودمختاری دلائی۔ بحرالکاہل میں واقع پالا یہ علاقہ اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کے تحت تھا، اور 1994 ء میں امریکہ سے معاہدے کے بعد ایک آزاد ریاست بنا۔ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری سنجیدگی سے کردار ادا کرے تو پرامن اور قابلِ قبول حل ممکن ہے۔ کشمیر جیسے حساس اور تاریخی مسئلے کے حل کے لیے بھی ایسا ہی ایک روڈمیپ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ اس غرض سے ریاست جموں و کشمیر کو ایک عبوری مدت کے لیے اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ میں دیا جائے۔ اس دوران لائن آف کنٹرول کھول دی جائے، دونوں اطراف کے کشمیری آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں، بنیادی حقوق بحال ہوں، اور بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں فضا کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔ دس سال کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم ہو، جس میں کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
میری دانست میں یہی وہ قابلِ عمل راستہ ہے جس سے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہوسکتاہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی قراردادوں اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ اور اقوام متحدہ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے دونوں ممالک کشمیری عوام حل کے لیے بھارت کی بھارت کے عوام کی کے بعد

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت