اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اگست2025ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی قیادت بشمول صدر ناصر منصور قریشی، سینئر نائب صدر عبدالرحمان صدیقی اور نائب صدر ناصر محمود چوہدری نے ای کامرس سیکٹر کے فروغ اور ملک کی عالمی منڈی میں مسابقت کو بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کامرس دنیا بھر میں معاشی ترقی کا ایک بڑا محرک بن چکی ہے تاہم عالمی ای کامرس معیشت میں پاکستان کا حصہ اس کی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسی پالیسیاں اپنائے جو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو سپورٹ کریں، انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنائیں، ادائیگی کے قابل اعتماد گیٹ ویز کو یقینی بنائیں، اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد، خاص طور پر SMEs، ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھا سکیں۔

(جاری ہے)

آئی سی سی آئی کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو جو کہ آبادی کی اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر مناسب تربیت اور سہولت فراہم کی جائے تو وہ ای کامرس کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈیجیٹل خواندگی کے پروگراموں کو پھیلانا، لاجسٹکس کے نظام کو بہتر بنانا، اور آن لائن کاروبار کے لیے ریگولیٹری آسانی کو یقینی بنانے سے نہ صرف روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے بلکہ مقامی پروڈیوسرز کو عالمی خریداروں سے جوڑ کر برآمدات کو بھی فروغ دیا جا سکے گا۔

صدر ناصر منصور قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے حکومت، نجی شعبے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مضبوط اشتراک بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج جدت اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ہم آنے والے سالوں میں پاکستان کو علاقائی ای کامرس کے مرکز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔آئی سی سی آئی کی قیادت نے پالیسی سازوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان ڈیجیٹل انقلاب کے ساتھ رفتار کو برقرار رکھے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنی پوری صلاحیت کو بروئے کار لائے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد