مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی یومِ آزادی زبردستی منوانے کے لیے جبر اور خوف کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
بھارت کے یومِ آزادی 15 اگست سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی نگرانی غیر معمولی حد تک سخت کر دی گئی ہے، جہاں لوگوں کو اس دن کی تقریبات میں شرکت پر مجبور کرنے کے لیے کثیر سطحی تلاشی مہمات، ’ایریا ڈومینیشن‘ مشقیں، اور صفائی کے نام پر سکیورٹی آپریشن جاری ہیں۔
آزادی کا دن، خوف کا ہتھیار
مقبوضہ وادی میں بھارت کے لیے آزادی کا دن، کشمیری عوام کے لیے خوف اور جبر کا ہتھیار بن چکا ہے۔ مودی حکومت نے ڈرونز، سی سی ٹی وی کیمروں اور ہزاروں نیم فوجی اہلکار تعینات کر کے مقامی آبادی کو قیدیوں جیسا سلوک سہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
کشمیری عوام کا سوال: قابض کا جشن ہم کیوں منائیں؟
مقبوضہ جموں و کشمیر کے مقامی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب وہ خود بھارتی تسلط سے آزاد نہیں تو قابض قوت کا جشن آزادی کیوں منائیں؟ بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کو مقامی لیفٹیننٹ گورنر نے لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ کشمیری قوم بھارت کا حصہ ہے، لیکن کشمیری عوام اس مسلط شدہ بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت کے یوم آزادی سے قبل مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ مزید سخت
سخت سکیورٹی، عوامی زندگی مفلوج
شہری علاقوں اور حساس مقامات پر روڈ بلاکس، سرچ آپریشنز اور مسلح ناکے قائم ہیں، جن کا مقصد عوام کو خوفزدہ کر کے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ رات کے اوقات میں مزید سخت ناکہ بندی، کرفیو اور نگرانی عام زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔
جبر کے سائے میں جشن
کشمیری عوام کو آزادی سے محروم کرنے والے ملک کے جشن میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کے نام نہاد سکیورٹی اقدامات دراصل عسکری طاقت کے مظاہرے اور ہر مخالف آواز کو دبانے کا ذریعہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: کشمیر کے یوم شہدا پر وزیر اعلیٰ بھی مقید
آزادی کا تاثر، غلامی کی حقیقت
بھارت دنیا میں آزادی کا جشن مناتا ہے، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقیقت یہ ہے کہ لوگ جبر، نگرانی اور قابض طاقت کی مسلط کردہ آزادی کے رسم و رواج نبھانے پر مجبور ہیں۔ اس تمام تر عمل کا پیغام واضح ہے:
’قبضے کے خلاف مزاحمت کی قیمت خوف، جبر اور اجتماعی سزا ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت کا یوم آزادی کشمیری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کا یوم ا زادی کشمیری عوام آزادی کا کے لیے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل