مستعفی ہونے کی خبریں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے آخرکار حقیقت بتادی
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ایک بار پھر اس وقت تنازعات کا مرکز بن گئے جب ایک صحافی نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ایک سرکاری اہلکار کی مبینہ گرفتاری کے خلاف احتجاجاً اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
تاہم خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں صحافی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘جعلی خبر’ قرار دیا۔
بیوروکریسی اور دوسری اشرافیہ کی پرتگال میں پناہ گاہیں مہیا کرنے میں سب سے بڑا کردار ایک ورک صاحب کر رہے ھیں۔ https://t.
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 6, 2025
نجی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ تنازع دراصل سیالکوٹ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اقبال سانگھرا کی حالیہ گرفتاری سے جڑا ہوا ہے، جن کے ریمانڈ میں جمعرات کو لاہور کی ایک عدالت نے مزید توسیع کی تھی۔
گرفتاری کے چند دن بعد وزیر دفاع نے ایک تہلکہ خیز ٹوئٹ میں بیوروکریسی پر کرپشن کا الزام لگایا اور کہا کہ کئی سینئر افسران پرتگال میں جائیدادیں خرید کر شہریت حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
معذرت کیساتھ ان صاحب نے اپنی خواھشات اس ٹویٹ میں لکھیں ھیں ۔ حقیقت نہیں pic.twitter.com/Awgm5EJHMT
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 6, 2025
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے اور شہریت حاصل کرنے کے قریب ہے، یہ وہی کرپٹ عناصر ہیں جنہوں نے اربوں لوٹا اور اب آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں’۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے قریبی بیوروکریٹ نے 4 ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سیلوٹ لیا ہے اور وہ آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ سیاستدان اپنی بچت کھا کر مار کھاتے ہیں، نہ پلاٹ اور نہ ہی غیر ملکی شہریت کیونکہ انہیں الیکشن لڑنا ہے۔
اگلے دن وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پرتگال میں بیوروکریسی اور دیگر اشرافیہ کو سہولت فراہم کرنے میں ایک کارکن سب سے بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔
دریں اثناء ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ خواجہ آصف نے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے جو مبینہ طور پر سیالکوٹ کے ایک افسر کی گرفتاری کے خلاف احتجاجاً دیا گیا تھا۔
وزیر دفاع نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے ٹویٹ کا ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں لکھا تھا “جعلی” اور کہا، “معذرت، اس شخص نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے، سچ نہیں۔”
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے پرتگال میں وزیر دفاع
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔