اربعین حسینی کی مناسبت پر وادی کشمیر میں جلوسہائے عزاء برآمد
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام ٹائمز: مجلس اربعین سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید ہادی موسوی نے کہا کہ اربعین تحریک کربلا سے تجدید وفا کا ایک تاریخ ساز دن ہے، اس سفر عشق کا تعلق حضرت امام حسین (ع) کے مشن انسانیت کیساتھ ہے یہی وجہ ہیکہ اس کاروان عشق میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہورہے ہیں۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی
وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں یوم اربعین کی تقریبات کا انعقاد ہوا، کشمیر کے کئی مقامات پر یوم اربعین کے جلوس برآمد کئے گئے۔ اربعین کے مرکزی جلوس بمنہ و سرینگر میں برآمد کئے گئے، جن میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ مرکزی امام بارگاہ بمنہ میں مجلس اربعین سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید ہادی موسوی و آغا سید حسن موسوی نے یوم اربعین کا تاریخی پس منظر اور تحریکی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ اربعین تحریک کربلا سے تجدید وفا کا ایک تاریخ ساز دن ہے، اسی روز دو برگزیدہ اصحاب رسول (ص) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اپنے اقارب کے ساتھ وارد کربلا ہوئے زیارت شہدائے کربلا انجام دی اور قبر امام حسین (ع) پر یزید لعین کے جبر و استبداد کے خلاف رائے عامہ منظم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوم اربعین کربلائے معلیٰ جاکر زیارت سید الشہدا (ع) بجا لانے کا ایک مخصوص دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ معصومین (ع) نے اربعین کے روز عزاداری اور زیارت شہدائے کربلا کی تاکید کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چہلم شہدائے کربلا کے موقعہ پر کربلائے معلی میں سفر عشق کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا اجتماع منعقد ہو رہا ہے، اس سے یوم اربعین کی اہمیت اور افادیات اور بھی واضح ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر عشق کا تعلق حضرت امام حسین (ع) کے مشن انسانیت کے ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ اس کاروان عشق میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ تفصیلی ویڈیو رپورٹ پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ یوم اربعین
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔