شہدائے وطن کو سلام, جن کی بے مثال قربانیوں کی بدولت معرکہ حق میں فتح نصیب ہوئی۔محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ شہدائے وطن کو سلام. جن کی بے مثال قربانیوں کی بدولت معرکہ حق میں فتح نصیب ہوئی۔محسن نقوی نے یوم تشکر پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں، شہدائے وطن کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی بے مثال قربانیوں کی بدولت معرکہ حق میں فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی رات کے اندھیرے میں حملہ کیا لیکن پاکستان کے بہادر سپوتوں نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھا کر شکست فاش دی، طاقت کے گھمنڈ میں مست دشمن چند گھنٹے بعد ہی میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کے شاہینوں نے 6 بھارتی طیاروں کو خاک کی دھول چٹا کر فضائی جنگ میں نئی تاریخ رقم کی، پاکستان کی جری مسلح افواج نے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر عظیم کامیابی کا سنہرا باب رقم کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ افواج پاکستان کے ساتھ خوددار اور باوقار پاکستانی قوم کی فتح ہے، جس پر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیف آف ایئر سٹاف ظہیر بابر اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تینوں سروسز چیفس کی دانشمندانہ اور جراتمندانہ قیادت میں بہادر سپوتوں نے دشمن کے مذموم عزائم کوخاک میں ملایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔