بہادر افواج نے دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ ایازصادق
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ بہادر افواج نے دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے، اللہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے ۔جمعہ کو یوم تشکر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے مادر وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے شہداکو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہماری افواج نے دشمن کی کھلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، بہادر افواج نے دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے ،10 مئی کے بعد والے پاکستان میں ایک نئی تازگی اور مسرت محسوس ہو رہی ہے،معرکہ حق کے بعد پاکستان کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان اور عوام سیسہ پلائی دیوار کی مانند مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر دفاع وطن کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے،پاکستانی میڈیا اور نوجوانوں نے معرکہ حق میں مثالی کردار ادا کیا،پوری قوم نے بھارتی جارحیت کے دوران بردباری اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا،سیاسی و عسکری قیادت نے یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا مردانہ وار جواب دیا، شہدا کی قربانیوں کو قوم کبھی نہیں بھولے گی، ملکی دفاع کے لیے پوری قوم یکجہتی کی علامت بنی رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے ثابت کیا کہ حوصلے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اختلافات سے بالا تر ہوکر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے مسلح افواج کیلئے نیک خواہشات کا اظہا ر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔