آپریشن بنیان مرصوص کی فتح پر یومِ تشکر، شہداء کے اہلِ خانہ کے تاثرات
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستانی قوم اور شہداء کے اہلِ خانہ بھی آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کی عظیم فتح پر یومِ تشکر منا رہے ہیں۔
اس موقع پر شہداء کے اہلِ خانہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک بزدل دشمن ہے جس نے رات کے اندھیرے میں معصوم سویلینز پر حملہ کیا، عوام اور پاک فوج اس مشکل گھڑی میں متحد ہو کر ساتھ کھڑے رہے۔
لواحقین نے کہا کہ پاک فوج نے فجر کے وقت آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور پاک فوج نے ثابت کر دیا کہ وہ دنیا کے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جدید حکمت عملی، بہادر قیادت اور جذبہ شہادت سے لبریز قوم نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
شہداء کے لواحقین کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں بھارت نے پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا جس کا پاک فوج نے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا، پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کی بہترین فوج ہے۔ ہماری پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے، پاک فوج کی شاندار کامیابی پر آج ہم یوم تشکر اور معرکہ حق منا رہے ہیں۔
میجر ذکا شہید کے اہل خانہ
یوم تشکر کے موقع پر میجر ذکا شہید کے اہل خانہ نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہداء ہمارا فخر ہیں۔ میجر ذکا شہید نے 2012 میں سیاچن میں گیاری سیکٹر کے محاذ پر دفاع وطن میں جام شہادت نوش کیا۔
یوم تشکر کے موقع پر میجر ذکا شہید کے سوگواران کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے گیاری میں جام شہادت نوش کیا، افواج پاکستان کی بھارت کے خلاف عظیم فتح پر مجھے بہت خوشی ہوئی۔
میجر ذکا شہید کے والد کا کہنا تھا کہ مودی نے جہاز تو خرید لیے مگر پاکستان کی مسلح افواج کے جذبے جیسا جذبہ کہاں سے لے گا، پاک فوج کے جوان جذبہ شہادت سے سرشار ہیں۔
شہید بیٹے کی تصویر سے بات کرتے ہوئے والد کا کہنا تھا کہ بیٹے آپ کی شہادت کا بدلہ پاکستان کی افواج نے بھارت سے لے لیا۔
میجر ذکا شہید کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب مجھے پاکستان کی مسلح افواج کی فتح کی خبر ملی تو میں نے سجدہ شکر ادا کیا، میں نے دشمن کی شکست کی دعائیں کیں۔
میجر ذکا شہید کے بھائی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے جیسے بھارتی دفاع کو ناکارہ بنایا وہ تاریخی ہے، ہم بھارت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کسی بھول میں نہ رہے۔ وطن عزیر کی مضبوط بنیادوں میں ہمارے شہداء کا خون شامل ہے۔
سپاہی ارشد خان اور حوالدار محمد زاہد شہید
وطن پر جان نچھاور کرنے والے دو بھائیوں، سپاہی ارشد خان شہید اور حوالدار محمد زاہد شہید کے والدین کو انکی شہادت پر فخر ہے۔
ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے سپاہی ارشد خان شہید نے 2017 میں فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) میں شمولیت اختیار کی اور 17 نومبر 2024 کو باغ میدان میں اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے ہوئے فتنہ الخوارج کے سامنے فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہوئے۔
شہید نے نہ صرف بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ انکے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے خود وطن پر جان نچھاور کی۔
شہید کے والدین عزم و حوصلے کی عظیم مثال ہیں جنہوں نے تین مہینے سے بھی قلیل عرصے میں اپنے دو شہید بچوں کے جسد خاکی سبز ہلالی پرچم میں لپٹے گلے لگائے۔ شہید ارشد خان ضلع خیبر جبکہ شہید محمد زاہد نے ضلع مہمند میں جام شہادت نوش کیا۔
شہداء کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’’میرے دونوں بچے اس دھرتی اور وطن کی دفاع میں شہید ہوئے میں انکی شہادت پر فخر محسوس کرتی ہوں، میرے بچوں کی شہادت کے صدقے اللہ ہماری منزل آسان کرے۔ میرے دونوں بچے نیک صالح اور خدمت کرنے والے تھے۔ دونوں بچوں کی شہادت قلیل عرصے میں ہوئی، اللہ تعالیٰ ہمیں صبر عطا فرمائے۔‘‘
اس موقع پر والد کا کہنا تھا کہ ’’جوان بچوں کی شہادت پر فخر ہے، اللہ نے مجھے دو شہید بچے دیے۔ سب کی خواہش ہوتی ہے کہ شہادت کی موت نصیب ہو لیکن صرف خوش نصیبوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے۔ میرے بچوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔‘‘
بھائی کا کہنا تھا کہ ’’دشمن یہ نہ سوچے کہ ہم حوصلہ ہار گئے ہیں، ہم کبھی بھی دشمن کو انکے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
کیپٹن روح اللہ شہید
آپریشن بنیان مرصوص میں افواج پاکستان کی شاندار کامیابی پر کیپٹن روح اللہ شہید کے والد نے بھی اپنے تاثرات دیے۔
والد کپٹین روح اللہ شہید کا کہنا تھا کہ ’’معرکۂ حق، پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ افواجِ پاکستان نے اپنے عزم، حوصلے اور قربانی سے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔‘‘
شہید کا والد کا کہنا تھا کہ ’’آج جب پوری قوم یومِ تشکر منا رہی ہے۔ پاکستان کا ہر فرد اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہے کہ اس نے ہمیں کامیابی عطا فرمائی اور ہمیں مضبوط اور بے خوف فوج عطا کی۔ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ وطن کے دفاع کے لیے مثالی قربانیوں سے پوری قوم کا سر اقوام عالم میں فخر سے بلند کیا۔‘‘
والد کپٹین روح اللہ شہید کا مزید کہنا تھا کہ ’’دشمن نے یہ سمجھا کہ ہماری فوج مغربی سرحد پر فتنے باز خوارج سے نبرد آزما ہے، تو شاید وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کر لے گا۔ مگر وہ یہ بھول گیا کہ اس کا مقابلہ ایک نڈر، باحوصلہ اور غیرتمند قوم اور افواج سے ہے۔‘‘
شہید کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹے کو وطن پر قربان کرنا کوئی دکھ کا سودا نہیں بلکہ میرے لیے فخر کا مقام ہے۔ اس مٹی کا ہر فرد سپاہی ہے، شہادت کا متلاشی ہے۔ یہی جذبہ ہے جو دشمن کے عزائم کو بار بار شکست دیتا ہے۔ اگر وطن عزیز پر کبھی بھی کوئی آنچ آئی، تو میں اپنی پوری فیملی سمیت ہر قربانی کے لیے تیار ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: والد کا کہنا تھا کہ جام شہادت نوش کیا میجر ذکا شہید کے کے ناپاک عزائم روح اللہ شہید شہید کے والد بنیان مرصوص پاکستان کی پاک فوج نے کی شہادت شہداء کے کے اہل
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔