Express News:
2026-07-24@16:03:38 GMT

’’بلیو اکانومی‘‘ پالیسی کی تیاری

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

ہزاروں سال سے سمندر کے راستے تجارت ہورہی ہے اور جب تجارتی جہاز ایک ساحلی بندرگاہ سے دوسرے کسی براعظم کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے ہیں تو اپنے ساتھ مال تجارت کے علاوہ تہذیبوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے کے مواقعے بھی حاصل ہوتے ہیں۔ دوستی بھائی چارے کے پیغام کے ساتھ آپس میں گھلنے ملنے کے مواقعے حاصل ہوتے ہیں۔ ہنر و فن، دستکاری اور اس طرح کے بہت سے معاملات میں ایک دوسرے سے آگاہی ہوتی ہے، ایک ملک کی دوسرے ملک سے شناسائی ہوتی ہے۔

انھی بحری راستوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک سفارتکاری ہوتی رہی ہے۔ شعبے تعینات ہوتے رہے ہیں، دنیا بھر میں اب اس بحری عالمی تجارت، اس بحری دولت، بحری وسائل سمندر میں چھپی معدنیات زیر سمندر تیل و گیس کے ذخیروں کی تلاش اور اس بحری خزانے سے استفادے کے نام کو اب ’’بلیو اکانومی‘‘ کہا جانے لگا ہے۔

بہت سے ممالک ایسے ہیں جو آج سے کئی عشرے قبل سے اس دولت کو سمیٹ کر اس سے متعلق بلیو اکانومی پالیسی بنا کر اپنے خزانے بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ اب بھی دنیا بھر کے ساحل اپنے اپنے ملکوں کو پکار رہے ہیں کہ آئی ایم ایف یا کسی اور کے پاس نہ جاؤ، اپنے وسائل اپنے ذرایع اپنے سمندر اپنے ساحل کو ذرا تراش لو۔ تو دیکھو ہم زر و جواہر کے ڈھیر لگا دیں گے، بہت سے ملکوں نے بہت پہلے اس آواز پر کان دھر لیا تھا۔ پاکستان اس جانب متوجہ ہوا۔ پہلے تھوڑی بہت توجہ تھی اور سمندری تجارت کا اہم ترین جز مچھلیاں ایکسپورٹ کرکے لگ بھگ کبھی 50 کروڑ ڈالر کبھی 45 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کر لیتا تھا۔

لیکن کچھ عرصے سے پاک نیوی جس کی حکمرانی کافی عرصے سے بحیرہ عرب پر قائم تھی، اس کے اصرار پر حکومت پاکستان نے اس جانب اب بھرپور توجہ دی۔ پہلے بھی کچھ توجہ تھی لیکن اس مرتبہ وزارت بحری امور نے سمندری شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے جامع ’’بلیو اکانومی پالیسی‘‘ کی تیاری کا کام شروع کر دیا ہے اور یہ منصوبہ بندی 100 ارب ڈالر سے زائد آمدن لانے کا ذریعہ بنے گی۔ اب اسے مستقبل کا خواب نہیں سمجھا جائے گا بلکہ آج کی ترجیح ہوگی۔

پاکستان میں بلیو اکانومی سے جڑا ماہی گیری کا شعبہ ہے۔ یہ شعبہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارت سے محروم ہے اس لیے اس کی کارکردگی بھی کچھ زیادہ نہ رہی اب بلیو اکانومی منصوبے کے تحت اس شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ مچھلی کی برآمدات کو کم ازکم 10 سے 15 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے۔ پہلے ماہی گیری شعبے کی برآمدات کا عالمی مارکیٹ میں بالکل قابل ذکر کوئی حصہ نہیں تھا لیکن اب امید ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی، جدید کولڈ چین وغیرہ سے برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

کراچی کے ساحلی علاقوں میں زیر سمندر گیس اور تیل کے ابتدائی ذخائر کا تخمینہ 100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس شعبے کو منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے۔ میرین یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ماہی گیروں کی جدید ترین خطوط پر تربیت مہیا کی جائے گی۔ کراچی کے ساحلوں کے نزدیک آلودگی پھیلتی چلی جا رہی ہے امید ہے اس جانب بھی توجہ دی جائے گی۔ اس طرح وقت آ گیا ہے کہ ’’بلیو اکانومی پالیسی‘‘ تیار کرکے سمندر کی وسعتوں سے سونا کشید کیا جائے۔ بلوچستان میں گڈانی کا خوبصورت ساحل اب صرف جہاز توڑنے کا مقام بن کر رہ گیا ہے۔

اس میں بھی اب کمی واقع ہو گئی ہے اگر اس ساحل کی خوبصورتی کے لیے سرمایہ کاری کی جائے وہاں پر سرمایہ کاری کرنے سے مقامی آبادی کو روزگار بھی میسر آئے گا اور دنیا بھر سے سیاح بھی بڑی تعداد میں آ سکتے ہیں لیکن یہاں پر پہلا مسئلہ امن و امان ہے جسے حکومت امن قائم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرے جوکہ بلیو اکانومی پالیسی کا حصہ بھی ہو۔ اسی طرح کنڈ ملیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اسے بھی ایک اچھا خاصا تفریحی سیاحتی ساحل بنانے میں سوائے سرمایہ کاری کے اور کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔

’’ہنگول نیشنل پارک‘‘ میدانی ساحلی اور پہاڑی سلسلے پر مشتمل خوبصورت مناظر کی دولت سے مالا مال ساحلی پٹی ہے۔ پھر کراچی سے ساڑھے چار سو میل دور ’’پسنی‘‘ کی بات ہی کچھ اور ہے جو خوبصورت ساحل کے ساتھ نایاب آبی حیات کے لیے بھی مشہور ہے اور پھر جیوانی جسے پہلے کی نسبت بہت زیادہ ترقی دینا ہوگی، اس کے ساتھ بلوچستان کے امن و امان کے مسائل کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔ اگر ان تمام تر ساحلی مقامات کو نیلی معیشت سے بدل دیتے ہیں تو یہ مقامی بے روز گار افراد کے لیے روزگار کا جاذب نظر ذریعہ بن جائے گا جس سے امن و امان کے مسائل کو بھی تیزی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

جس طرح کہا جا رہا ہے کہ بلیو اکانومی پالیسی کی تیاری کا آغاز کر دیا گیا ہے اگر درست منصوبہ بندی کرلی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ساحلی سیاحت، محفوظ جہاز رانی، تجارتی جہازوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک اور وسائل کی تلاش کا کام تیز تر کیا جاسکتا ہے۔

معدنیات تیل و گیس کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے اور یوں پائیدار بلیو اکانومی پالیسی کے ذریعے مقامی افراد کے لیے روزگار کے ہزاروں نہیں لاکھوں مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں جس سے 100 ارب ڈالر کی آمدن کم ہے اس سے کہیں زیادہ حاصل ہو سکتا ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار کی فراہمی کا خواب کی تعبیر مل کر رہے گی لیکن اس ضمن میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بس ہمت مرداں مدد خدا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر کے لیے گیا ہے ہے اور

پڑھیں:

آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 

پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔

دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے  پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔

آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔

بھارتی عوام  کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار  کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا