پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آہنی دیوار کی مانند کھڑا ہے، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آہنی دیوار کی مانند کھڑا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے وزارت داخلہ میں ملاقات کی۔ محسن نقوی نے برطانوی وزیر خارجہ کا استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آہنی دیوار کی مانند کھڑا ہے۔ ہم برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے اپسکیل پروگرام کے تحت برطانوی حکومت کے خصوصی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام منظم جرائم کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپسکیل پروگرام کے تحت غیر قانونی امیگریشن، بچوں سے متعلق آن لائن ہراسانی، میوچوئل لیگل اسسٹنس و ایکسٹراڈیشن، مجرموں کے ریکارڈ کا تبادلہ، سیکس آفنڈر مینجمنٹ، غیر قانونی فنڈنگ اور انسداد منشیات جیسے اہم شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مؤثر اشتراک جاری ہے۔علاوہ ازیں محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے تعاون سے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے 4.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔