Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:38:55 GMT

بھارتی جارحیت،وزیراعظم نے صورتحال کوبہترین سنبھالا

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

بھارتی جارحیت،وزیراعظم نے صورتحال کوبہترین سنبھالا

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) بھارت کیخلاف پاکستان کی کامیابی ، پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا، اس کی
مرکزی تقریب اسلام آباد شکر پڑیاں میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم شہبازشریف تھے ، اس تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان ،غیر ملکی سفارتکار ، وزراء اور اہم شخصیات شریک تھیں لیکن تقریب کی خاص دو تین باتیں تھیں ۔ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کیا اور خوب داد لی ، پھر سیدہ عائشہ ہاشمی اور بچوں نے میڈیم نور جہاں کا ملی نغمہ اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدےسناکرخوب داد وصول کی ،بڑی شاندار تقریب تھی،تقریب میں لہوگرمایا گیا، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں 1971کے واقعات کا بھی ذکرکیا اور کہا کہ قوم کی دعائیں رنگ لائیں اورپاکستان کو کامیابی ملی ، انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ9مئی کو سب سے ملاقات کی اور آخری پلان دیا ، جب بھارت نے تمام حدیںکراس کر لیں تو انہوں نے کارروائی کا حکم دیا تھا، وہ کہتے ہیںکہ رات ڈھائی بجے جب آرمی چیف کا فون آیا کہ نور خان ایئر بیس کے قریب بھارت کا میزائل گرا ہے اور اب ہمیں جوابی کارروائی کی اجازت دیں ، وزیراعظم نے کہا کہ بسم اللہ کریں،نعرہ تکبیر بلند کریں اور آگے بڑھیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ فجرکی نماز کے بعد سوئمنگ کرتا ہوں ، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سوئمنگ کیلئے میں اپنا سیکیور فون ساتھ لے گیا اور جونہی فون بجا تو آرمی چیف سید عاصم منیر نے بتایاکہ سیز فائرکی درخواست کی جارہی ہے، میں نے کہا کہ اس سے بڑی عزت کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ آپ نے دشمن کو سیزفائر پر مجبور کردیا ہے، میں نے کہا کہ آپ سیزفائرکی پیشکش کو قبول کرلیں، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ سے جاپان ، یورپ تک ہر جگہ تک یہ بات پہنچ گئی ہے کہ پاکستانی فوج اور پاکستان کامیاب ہوئے ہیں ، پھر انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی ذکر کیا اور امریکی صدر نے جو سیز فائر کرایا اور مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی بات کی۔وزیراعظم نے خطاب میں بھارت کو دو پیغام دیے ایک امن اوردوسرادوبارہ گڑ بڑکا سوچنا بھی نہیں ، پھر ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کریں اور آگے بڑھیں ، پانی کا مسئلہ ہے ، سندھ طاس معاہدہ ہے پر اس پر عمل کریں اور آگے بڑھیں ، یہ معاملات اہم تھے ،کشمیر کا مسئلہ حل کریں،بھارت پانی روکنے کی پالیسی کو ختم کرے،واضح اعلان کرے اور اس کے بعد پھر تجارت کی بات ہوگی۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ایک نئی بات کی ہے وہ یہ ہے کہ اب ہمیں معاشی میدان میں 10مئی کی طرح آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ،وزیراعظم کو چاہیے کہ اب اس ساری صورتحال سے نکلنے کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ پاکستان کے اندر سیاسی استحکام لائیں ،سیاسی استحکام ہوگا تو ملک آگے بڑھے گا،وہ تحریک انصاف کو مذاکرات کی آفر کر چکے ہیں، پی ٹی آئی نے اس پیشکش کو قبول بھی کر لیا ہے ، تو اس عمل کو آگے بڑھایا جائے تا کہ ملک کے اندر اتحاد کی جو فضاء پیدا ہوئی ہے وہ برقرار رہے،اب ایک بڑا موقع مودی نے ہمیں دے دیا ہے، قومی اتحاد ویکجہتی کا عملی مظاہرہ ہوچکا ہے ، اب سیاسی طور پر ملک کو مستحکم بنائیں اور اپوزیشن کے گلے شکوے آئین کے دائرے میں رہ کر دور کریں ، پھر دوسرامسئلہ ہے دہشتگردی کا ،خاص کر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اس سے نمٹنا ضروری ہے ، بلوچستان کے حوالے سے ایک بھی ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے تمام صورتحال کو دانشمندی سے سنبھالا ،سفارتی محاذکو بڑے خوبصورت اور جامع انداز میں لیکر آگے چلے، ایک اور بڑی اچھی خبر آئی ہے کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر ہیں اور برطانوی وزیر خارجہ نے بڑا اہم بیان دیا ہے کہ پہلگام واقعے پر بھارت نے جو پاکستان پر الزامات لگائے وہ درست نہیں ہیں ، کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ،بھارت نے کوئی ثبوت نہیں دیا ، یہ برطانیہ کی جانب سے بہت بڑا اور اہم اعلان ہے اور یہ پاکستان کی بے گناہی کا عالمی سطح پر ثبوت ہے ، اس بیان کے بعد نئی دہلی والوںکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ، پہلے ٹرمپ کے بیانات پر پریشان تھے اور اب برطانوی وزیر خارجہ کے بیان کی وجہ سے پریشان ہورہے ہیں،اب سیز فائر کو آگے بڑھانا اور اس کو مستقل بنیادوں پر آگے لیکر چلنا یہ بھی عالمی برادری کی ذمہ داری ہے اور اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آئندہ چند دنوں میں کیا پیشرفت متوقع ہے ۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا