ہم کسی بھی قسم کی دراندازی کا مقابلہ کریں گے، انصار الله
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
الجزیرہ سے اپنی ایک گفتگو میں محمد البخیتی کا کہنا تھا کہ ہم کسی شرط کے بدلے غزہ کے عوام کی حمایت میں اپنے فوجی حملے بند نہیں کریں گے۔ ہم ہر جارحیت کا سختی سے جواب دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" کے پولیٹیکل بیورو چیف "محمد البخیتی" نے کہا کہ ہم ہر قسم کی دراندازی کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ سے اپنی گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر محمد البخیتی نے کہا کہ غزہ کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف ہماری عسکری کارروائیاں روکنے کی کوشش بےکار جائیں گی۔ انہوں نے صیہونی رژیم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ کسی شرط کے بدلے غزہ کے عوام کی حمایت میں اپنے فوجی حملے بند نہیں کریں گے۔ ہم ہر جارحیت کا سختی سے جواب دیں گے۔ محمد البخیتی نے واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ ہمیں امریکی و صیہونی دھمکیوں سے کوئی خوف نہیں۔ دوسری جانب کچھ ہی دیر قبل انصار الله میڈیا آرگنائزیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر "نصر الدین عامر" نے کہا کہ ہم ہر اس جارحیت کا سختی سے مقابلہ کریں گے جو ہمیں غزہ کی مظلوم عوام کی حمایت سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک غزہ کی عوام کے خلاف جارحیت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ہم بتدریج اپنے اقدامات کی سطح بڑھاتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد البخیتی جارحیت کا نے کہا کہ کہا کہ ہم کی حمایت کریں گے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :