لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2025ء)وفاقی دارالحکومت کی مشہور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کو اس وقت لال مسجد سے نکال دیا جب وہ دارالافتا میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے بندوق تھامے مفتی عبدالقوی کو کہا کہ یہاں سے نکل جا ئو،اگلی بار آئے تو باندھ کر کوڑے ماروں گا، انہوں نے کہا کہ یہ بدمعاش ہے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی جامعہ حفصہ کے دفتر میں کچھ علما ء کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران مولانا عبدالعزیز غصے اور اسلحے سے لیس حالت میں کمرے میں داخل ہوئے۔مولانا عبدالعزیز نے کسی رسمی گفتگو کے بغیر سخت لہجے میں مفتی عبدالقوی کو فوراً ادارہ چھوڑنے کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ نکل جائو ورنہ میں گولی مار دوں گا۔

(جاری ہے)

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی اس اچانک صورتحال پر خوفزدہ ہوکر جلدی میں کمرے سے نکل جاتے ہیں۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نہ صرف ان پر سنگین الزامات لگاتے ہیں بلکہ سخت زبان بھی استعمال کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا عبدالعزیز ہاتھ میں رائفل پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے گارڈز کے ساتھ دارالافتا کی طرف جا رہے ہیں۔

جاتے ہی انہوں نے مفتی عبدالقوی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا میں اسے گولی مار دوں گا، یہ بد معاش ہے۔انہوں نے دارالافتا کے لوگوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آئندہ جو بھی اس کے ساتھ بیٹھا میں اس کا علاج کروں گا، یہ انسان نہیں ہے، یہ جہاں ملے اس کو کوڑے لگائے جائیں، اس بدمعاش کو، یہ خود کہتا ہے میں نے بہت ساری شادیاں کی ہیں، نیا دین بنایا ہے اس نے۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تب مفتی عبدالقوی دارلافتا میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ مولانا عبدالعزیز کے آنے کے بعد وہ اٹھ کر چل دئیے اور فون کان کو لگالیا۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نے انہیں ہاتھ سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور کہا چل نکل یہاں سے، دفع ہوجا، آئندہ لال مسجد میں آپ نے نہیں آنا، اگر آپ لال مسجد میں آئے تو میں آپ کو یہاں باندھ کر کوڑے لگوائوں گا۔

مولانا عبدالعزیز کی گرج چمک کے بعد مفتی عبدالقوی جلدی میں باہر نکلے لیکن جلد ہی دوبارہ اندر آگئے کیونکہ وہ اپنے جوتے بھول گئے تھے۔ اس موقع پر مفتی عبدالقوی نے ریمارکس دیئے کہ جمعہ کی نماز کے لیے لال مسجد گیا،مسجد کے علما ء کرام شرعی مسئلہ پوچھنے کے لیے مجھے دفتر لے گئے۔انہوںنے کہا کہ مولانا عبدالعزیز آئے اور انہوں نے مجھے مسجد سے نکل جانے کا کہا، مولانا عبدالعزیز نے مجھے اللہ کے گھر سے نکالا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد انہوں نے نکل جا

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جھانوی کپور کی وائرل ویڈیو، پروموشنل ایونٹ میں خوفزدہ ردعمل
  • رام چرن کا ہمشکل جنونی مداح جھانوی کپور پر جھپٹ پڑا، ویڈیو وائرل
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت