’’پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھڑ سکتی تھی‘‘؛ ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
’’پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے چھڑ سکتی تھی‘‘؛ ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 17 May, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خارجہ پالیسی کے میدان میں انہیں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ جس اقدام پر سراہا گیا وہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے پاکستانیوں کی ذہانت اوران کے ناقابل یقین حد تک شاندار اشیا تیار کرنے کی صلاحیتوں کا برملا اعتراف کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “پاکستانی ذہین لوگ ہیں، وہ حیرت انگیز اشیاء تیار کرتے ہیں۔” انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود باہمی تجارت بہت کم ہے۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ ان کی پاکستان سے بہت عمدہ بات چیت ہوئی ہے۔ ہم پاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتے کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ پاکستان امریکا سے تجارت کا خواہشمند ہے اور انہوں نے اس سمت میں بات چیت کی ہے۔
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والی کشیدگی کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ دونوں کوئی عام ممالک نہیں بلکہ بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں۔” انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ نیوکلیئر جنگ کسی بھی لمحے چھڑ سکتی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق، “ادلے کا بدلہ ہو رہا تھا، میزائل داغے جا رہے تھے، نفرت عروج پر تھی اور دونوں فریق اپنی پوری قوت سے حملہ آور تھے۔” انہوں نے واضح کیا کہ نیوکلیئر جنگ کا تصور ہی انتہائی خطرناک اور بدنما ہے اور خوشی ہے کہ امریکا کی مداخلت سے معاملہ سنبھل گیا۔
امریکی صدر نے بتایا کہ پس پردہ سفارتکاری میں انہوں نے اپنے اہلکاروں کو حکم دیا تھا کہ دونوں ممالک سے رابطہ کریں، بات چیت کا آغاز کریں اور تجارت کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم دشمنیاں ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے تجارت کو ایک ذریعہ بنا رہے ہیں۔”
بھارت پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ وہ ملک ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹیرف لگاتا ہے جس کی وجہ سے دوسروں کے لیے کاروبار کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ تاہم، اب بھارت بھی امریکا کے ساتھ ٹیرف میں سو فیصد کمی پر تیار ہے۔
ٹرمپ نے انٹرویو کے آخر میں خود کو وعدے پورے کرنے والا لیڈر قرار دیا اور کہا کہ ان کی قیادت میں امریکا نہ صرف عالمی امن کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ اقتصادی محاذ پر بھی نئے دروازے کھول رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اہم اور دلیرانہ اقدام اٹھایا۔ مودی کی جنگی پالیسیاں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
دفاعی ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے پہلے جنگ بندی کی اپیل کی، پھر ہٹ دھرمی سے ٹرمپ کو نشانہ بنایا۔ مودی سرکار کی جنگی سوچ نے بھارت کو عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث بنایا۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ ایپل کے سی ای او کو سرمایہ کاری سے روک چکے ہیں جو بھارتی معیشت کےلیے دھچکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرزندگی گزارنا مشکل ہوگیا، تنخواہ دار طبقے کا حکومت سے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت جاری، بمباری سے مزید 250 فلسطینی شہید پاک بھارت جنگ بندی کروانے پر زندگی میں سب سے زیادہ سراہا گیا، ٹرمپ بھارت کیساتھ مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کیلئے پرعزم ہیں: پاکستان ٹرمپ کو بڑا دھچکا، امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کی ملک بدری کا فیصلہ روک دیا دشمن جنوبی ایشیا میں خود کو تھانیدار سمجھتا تھا، حکمت عملی سے دشمن کے ہوش اڑ گئے، وزیراعظم غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، جلد امریکا سب ٹھیک کردیگا، ٹرمپ کا دعویCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :