سوشل میڈیا پر ترجمان افواج پاکستان کے منفرد انداز کے چرچے، فوجی حکام کا بھارت کو جواب ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس کو سوشل میڈیا پر خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد اور وائس ایڈمرل پاکستان نیوی راجہ رب نواز کا بھارت کو جواب ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
سوشل میڈیا پر کہیں ایئروائس مارشل اورنگزیب احمد کے سکور بتانے کے چرچے رہے تو کہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے فقرے بھی گردش کرتے رہے۔
دوسری جانب وائس ایڈمرل رب نواز کو بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنا سٹیٹس بنایا۔
آپریشن ب±نیان مرصوص:یاد رہے کہ آپریشن ب±نیان مرصوص کے تحت پاکستان نے بھارت میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ادھم پور ایئربیس، پٹھان کوٹ ایئربیس اور سرسہ ایئربیس کے علاوہ سورت گڑھ ایئرفیلڈز، براہموس سٹوریج سائٹ، بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے جی ٹاپ اور اڑی میں سپلائی ڈپو سمیت 12 اہداف کو تباہ کردیا تھا۔
بھارت کی جانب سے 7 مئی کی رات پاکستان پر جب فضائی حملہ کیا گیا تو پاکستان نے بروقت اور موثر جواب دیتے ہوئے رات کی تاریکی میں میزائل حملوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے بھارت کے 5 جنگی طیارے پاک فضائیہ نے مار گرائے جس میں جدید طرز کا فرانسیسی جنگی طیارہ رافیل بھی شامل تھا۔
پاکستانی خاتون پولیس افسر نے عالمی تحقیقاتی ایوارڈ اپنے نام کر لیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔