Juraat:
2026-07-24@06:41:08 GMT

دشمن ہمارے تھپڑ کو کبھی نہیں بھول سکے گا، وزیراعظم

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

دشمن ہمارے تھپڑ کو کبھی نہیں بھول سکے گا، وزیراعظم

 

جنگ میں فتح کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی

شاہینوں نے ایسا ڈراؤنا خواب دکھایا کہ قیامت تک وہ اس سے نکل نہیں سکے گا ، وزیراعظم کایوم تشکر کی تقریب سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ میں فتح کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، دشمن کو ایسا تھپڑ رسید کیا جسے وہ بھول نہیں سکے گا، ہم نے جنگ جیت لی مگر ہم امن چاہتے ہیں تاکہ یہ خطہ بھی باقی دنیا کی طرح ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرے ۔وفاقی دارالحکومت میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار فتح پر یوم تشکر کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ میں فتح کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔وزیراعظم نے کہا کہ وطن عزیز اور اپنی جانیں نچھاور کرنے والے عظیم شہدا کے عظیم والدین، اہل خانہ، وفاقی وزرا، چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف جنرل شمشاد ساحر مرزا، سپہ سالار بری فوج جنرل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر، جنرل افسران، سرکاری افسران اور معزز سفارت کاروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ آج اس محفل میں ہمارے انتہائی قابل احترام صحافی، بہن اور بھائی موجود ہیں، پاکستان کے مایہ ناز فنکار موجود ہیں اور یہاں پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام غازی بھی موجود ہیں۔وزیراعظم شہباز نے کہا کہ آج کا دن یوم تشکر ہے ، یہ دن دنیا کی تاریخ میں کسی کسی کو ملتا ہے اور صدیوں بعد ملتا ہے ، اللہ تعالیٰ فضل و کرم ہے کہ آج سے تقریباً 50سال قبل ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری مخلصانہ پیشکش کو دشمن نے ٹھکرایا ہے جس میں ہم نے کہاتھا کہ ایک عالمی تحقیقاتی کمیٹی بناتے ہیں جو پوری تحقیقات کے بعد دنیا کو حقائق بتادے گی، مگر دشمن نے انتہائی تحکمانہ انداز میں، غرور کے نشے میں بدمست ہوکر پاکستان پر حملہ کردیا اور بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا جن میں چھ سالہ بچہ بھی شہید ہوا، مائیں، بہنیں، بزرگ اور جوان شہید ہوئے ، اور دشمن نے یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کے اندر جاکر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دشمن کے چھ جہاز گرائے ، جو کہ جنوبی ایشیا میں خو د کو تھانیدار سمجھتا تھا، اور یہ سمجھتا تھا کہ پاکستان اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اسی پاکستان کے شاہینوں نے جھپٹ جھپٹ کر ان کے رافیل بھی گرائے ، مگ اور رافیل بھی گرائے ، اور اسے ایسا ڈراؤنا خواب دکھایا کہ قیامت تک وہ اس خواب سے نکل نہیں سکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد جنرل عاصم منیرنے مجھ سے کہا کہ اجازت دیں کہ دشمن کے منہ پر ہم ایسا تھپڑ رسید کریں گے کہ وہ عمر بھر یاد رکھے گا، اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح پٹھان کوٹ، ادھم پور اور دوسرے مقامات پر ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں نے حملے کیے اور دشمن کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کا پھر مجھے فون آیا اور کہا کہ ہم نے دشمن کو بھرپور جواب دے دیا ہے اور اب ہم سے سیز فائر کرنے کی درخواست کی جارہی ہے ، میں نے کہا کہ اس سے بڑی عزت کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ آپ نے دشمن کو سیزفائر پر مجبور کردیا ہے ، میں نے کہا کہ آپ سیزفائر کی پیشکش کو قبول کرلیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے ایئرچیف اور ان کے شاہینوں نے جس طرح ملک میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو چینی طیاروں کے ساتھ استعمال کیا اس سے دنیا کے ہوش اڑگئے اور دوستوں کا اعتماد آسمان سے باتیں کرنے لگا، امریکا سے لے کر جاپان تک اور ہر جگہ آج یہ بات ہورہی ہے کہ پاکستان کی افواج نے کس طرح خاموشی سے یہ صلاحیت حاصل کرلی۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کو دن رات باور کروارہا تھا کہ اس کی معیشت کھربوں ڈالر میں ہے ، اور اسلحے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور اسے خطے کا بادشاہ تسلیم کیا جائے ، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا، اور اللہ رب العزت نے یہ عظیم فتح پاکستان کو دی جس کے لیے ہم آج یوم تشکر اس طرح منارہے ہیں کہ پوری قوم کے سر رب ذوالجلال کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، آج پوری قوم یک جان دو قالب ہے اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ آج وقت آگیا ہے کہ اس سفر کا آغاز کردیں جس کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب آگے بڑھنا ہے ، اور قومی یکجہتی کو سرمایہ حیات بنا کر چل پڑے تو نہ صرف ماضی کے نقصانات کا ازالہ ہوگا بلکہ بہت جلد پاکستان اقوام عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کرلے گا۔انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معاشی میدان میں 10 مئی کو معروض وجود میں لانا ہے ، قوم تیار ہے ، ہمیں شبانہ روز محنت کرنی ہوگی، اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے اور شاندار اذہان سے نوازا ہے ، کسی چیز کی کمی نہیں ہے ، اگر ہم پرعزم ہوجائیں تو پاکستان انشااللہ دنیا کی دوڑ میں بہت جلد آگے نکل جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں تمام سفرا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جو پہلگام کے واقعے پر پاکستان کے خلاف بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے کے جواب میں پاکستان کے موقف کے ساتھ کھڑے رہے ، اور میں ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے جنگ بندی کی صورت میں اس خطے میں امن کے فروغ میں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جراتمندانہ لیڈرشپ اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کے ان کے ویژن پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں دنیا کے اس خطے میں ہولناک جنگ کا خطرہ ٹل گیا، خدانخواستہ اگر جنگ بڑھ جاتی اور ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچ جاتی تو تصور کیجیے کہ ایک ارب 60 کروڑ لوگوں میں سے کون یہ بتانے کے لیے زندہ بچتا کہ کیا ہوا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ہم نے جنگ جیت لی مگر ہم امن چاہتے ہیں، ہم نے اپنے دشمن کو سبق سکھا دیا ہے مگر ہم جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ خطہ بھی دنیا کے باقی خطوں کی ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرے ۔ان کا کہنا تھاکہ چاہے ہم اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں مگر ہم ہمسائے ہیں اور ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ ہی رہنا ہے ، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم پرامن ہمسائے بن کر رہیں یا لڑتے رہیں، پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے ، کیونکہ ہمارے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں مگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ جنگوں کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری بڑھی اور دیگر مشکلات میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جنگوں سے سبق یہ ملا ہے کہ ہم پرامن ہمسایوں کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل حل کریں، کیونکہ اگر مستقل امن چاہتے ہیں تو پھر مسائل کو مستقل طور پر حل کرنا ہوگا، جموں و کشمیر اور پانی کی تقسیم کے مسائل حل ہوجائیں تو پھر اس کے بعد ہم تجارت پر بات کرسکتے ہیں، اور انسداد دہشت گردی کے میدان میں بھی تعاون کرسکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے جس نے 90 ہزار جانیں قربان کی ہیں، اس میں ہمیں ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے ، کس قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنا جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے ملک میں امن کے لیے دہشت گردی سے نہیں لڑ رہے بلکہ دنیا میں امن کے لیے دہشت گردی سے نبردآزما ہیں، اگر ہماری افواج اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کررہی ہوتیں تو یہ دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل چکے ہوتے ، چنانچہ دنیا کو پاکستان کی قربانیوں اور نقصانات کو تسلیم کرنا چاہیے ۔قبل ازیں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار فتح پر یوم تشکر کی خصوصی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد شہدائے وطن کے درجات کی بلندی، وطن عزیز کی ترقی،سلامتی اوراستحکام کیلئے دعا کی گئی۔خصوصی تقریب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد ترانے اور ملی نغمے پیش کیے گئے ۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم تھے جبکہ وفاقی وزرا ، اراکین کابینہ چیئرمین جے سی ایس سی، سروسز چیفس، مختلف ممالک کے سفارتکار، سول اور عسکری حکام نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم