اسلام آباد:سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر جاری کر دیا گیا، چیف جسٹس اور جسٹس میاں گل حسن بینچ نمبر ون کا حصہ ہوں گے، دوسرا بینچ جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہوگا۔ سروسز میٹرز کے مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئندہ ہفتے کے لیے ججز کا روسٹر جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق مختلف بینچز میں متعین ججز مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کریں گے۔

پہلے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس یحٰی آفریدی کریں گے، جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی اس بینچ کا حصہ ہوں گے۔ دوسرا بینچ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہوگا، جبکہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس شکیل احمد تیسرے بینچ میں کیسز کی سماعت کریں گے۔

پانچویں بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعید اور جسٹس شہزاد احمد شامل ہوں گے، جبکہ چھٹے بینچ میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی فرائض انجام دیں گے۔

جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس صلاح الدین پنوار اور جسٹس عامر فاروق ساتویں بینچ میں شامل ہوں گے۔

سروسز میٹرز کے مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنوار، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہوں گے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی آٹھوا ریگولر بیچ کیسز سنے گا، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی بینچ کا حصہ ہیں ۔ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نوویں بینچ کا حصہ ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی سربراہی اور جسٹس کی سماعت دیا گیا کے لیے ہوں گے کا حصہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس