پنجاب میں شدید گرمی کی لہر، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب کے مختلف اضلاع اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت مسلسل خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور سمیت کئی میدانی علاقوں میں موسم کی شدت سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے موسم میں کسی قسم کی بہتری کی توقع نہیں، بلکہ درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں سورج کی تپش معمول سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ ہوا میں نمی کی کمی نے گرمی کے اثرات کو دوچند کر دیا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے شہریوں کو ہیٹ ویو کے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ادارے کے ترجمان کے مطابق 19 مئی تک درجہ حرارت میں اضافے کا خدشہ ہے، اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ درجہ حرارت، معمول کی نسبت 4 سے 7 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گرمی کے ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے ماہرین صحت نے عوام کو محتاط رہنے کی تلقین کی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں،دھوپ میں سر کو کپڑے یا ٹوپی سے ڈھانپیں،پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کریں،بچوں، بزرگوں اور مریضوں کا خاص خیال رکھیں۔
طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ گرمی کی شدت سے ہیٹ اسٹروک اور دیگر طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں، جو بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور ہیٹ ویو الرٹس پر نظر رکھیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:نیویارک ٹائمز نےآپریشن بنیان مرصوص کو پاک فوج کی بڑی کامیابی قراردیدیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت