مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی تعداد 55 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، ایڈمنسٹریٹر
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
کراچی:
عیدالضحیٰ میں 20 دن رہ گئے ہیں اور نادرن بائی پاس مویشی دوست منڈی کی رونقیں بڑھنے لگی ہیں جہاں ایڈمنسٹریٹر کے مطابق قربانی کے جانوروں کی تعداد 55 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
کراچی کے علاقے ناردرن بائی پاس میں قائم ایشیا کی سب سے بڑی 1200 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس مویشی منڈی میں اب تک 55 ہزار سے زائد قربانی کے جانور لائے جاچکے ہیں، جہاں نایاب اور دیدہ زیب گائے، بیل، بکرے اور خوبصورت نقش و نگار والے اونٹ شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
منڈی میں قربانی کے لائے گئے مال مویشیوں کے لیے الگ الگ بلاک مختص کیے گئے ہیں، مویشی منڈی میں پہلی بار شہریوں کے لیے بڑے بڑے برانڈز کی فرنچائز فوڈ اسٹریٹ میں کھابوں کے لیے قائم کی گئی ہے۔
مختلف بلاکس میں پہلے دن سے لائیو اسٹاک کے کیمپس قائم ہیں، موٹر سائیکل پر آنے والے شہریوں کے لیے پاس کی سہولت بھی موجود ہے، پہلے سے آدھی قیمت پر موٹرسائیکل کا انٹری پاس 1500 اور بڑی گاڑی کا 3200 میں پورا مہینہ جبکہ ون ڈے پاسز بنوا کر بھی گاڑی لانے کی اجازت ہے۔
ایڈمنسٹریٹر مویشی دوست منڈی فیصل علی کا کہنا تھا کہ منڈی میں جانوروں کے لیے چارہ، پانی اور بجلی کی سہولت 24 گھنٹے موجود ہے، فی جانور 30 لیٹر پانی مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مویشی دوست منڈی کے اطراف سیکیورٹی کے لیے ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں، پہلے دن سے قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ترجمان مویشی دوست منڈی نادرن بائی پاس ام ایمن نے بتایا کہ لوگ اپنی فیملیز کے ہمراہ فرینڈلی ماحول میں رات کے آخری پہر تک یہاں موجود ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مویشی دوست منڈی قربانی کے منڈی میں کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔