پی ایس ایل میں سپہ سالار کی اینٹری، آرمی چیف کو اپنے بیچ دیکھ کر شائقین کا جوش بڑھ گیا، پاک افواج زندہ باد کے نعرے
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک بھارت چار روزہ جنگ میں شاندار فتح کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا میلہ دوبارہ سج گیا۔ کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان ہونے والا میچ دیکھنے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم پہنچے۔ ان کے ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری بھی موجود ہیں۔ سٹیڈیم میں وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال بھی موجود تھے۔
حالیہ جنگ کے ہیروز کو اپنے بیچ دیکھ کر شائقین کا جوش بھی بڑھ گیا اور وہ پاکستان زندہ باد اور مسلح افواج کے نعرے لگاتے رہے۔ اس دوران آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر ہاتھ اٹھا کر نعروں کا جواب دیتے رہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے بعد پی ایس ایل شروع، کراچی کنگز نے پشاور زلمی کو بڑا ہدف دے دیا
اننگز بریک کے دوران زبردست کنسرٹ ہوا جس میں اداکار حمزہ علی عباسی نے میزبان کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور شائقین کے لہو کو گرمایا۔ گلوکار اسرار شاہ اور ساحر علی بگا نے ملی نغمے گا کر تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔