یہ جو خاموشی ہے، یہ معمولی نہیں۔ یہ کوئی حادثاتی وقفہ نہیں، یہ وہ لمحہ ہے جو آنے والے کئی برسوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ہم ایک ایسے دوراہے سے گزرے ہیں جہاں ایک قدم غلط پڑ جاتا تو شاید پورا خطہ دھماکوں کی دھول میں لپٹ جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم بچ گئے، بلکہ یوں کہیں کہ ہم نے خود کو بچا لیا۔ مگر اب سوال یہ نہیں کہ ہم بچ کیسے گئے بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اب کریں گے کیا؟یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچی ہو۔ مگر اس بار معاملہ صرف توپوں اور میزائلوں کا نہیں تھا۔یہ معرکہ سفارت، میڈیا، سیاسی ہوشیاری اور ٹیکنالوجی کے محاذ پر بھی لڑا گیا اور سچ پوچھیں تو یہی وہ میدان تھے جنہوں نے ہمیں فیصلہ کن برتری دی۔ دنیا نے دیکھا کہ چھوٹا ملک ہونے کے باوجود ہم نے نہ صرف جارحیت کو روکا بلکہ حکمت و تدبر سے جنگ کی آگ کو بجھا دیا۔پاکستانی فوج نے اس بار جو کردار ادا کیا وہ محض عسکری فتح کا قصہ نہیں بلکہ یہ قومی شعور، دانش مندی اور ایک نئے وژن کا مظہر ہے۔ جنرل عاصم منیر نے روایتی عسکری حکمت عملی سے ہٹ کر ایک ایسا تاثر دیا کہ دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی فوج اب صرف دفاعی ادارہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ذہانت کا مرکز بھی ہے۔ انہوں نے محاذ پر جذبات کو قابو میں رکھا مگر سفارتی میدان میں الفاظ کو گولہ بارود کی طرح استعمال کیا۔ ان کا یہ جملہ کہ ”ہم امن چاہتے ہیں، مگر امن کی بھیک نہیں مانگتے”۔ایک طرف بھارت کے غرور کا جواب تھا، تو دوسری طرف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی للکار۔اسی دوران، پاکستانی حکومت بھی کمال کی ہم آہنگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی رہی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاسی بلوغت اور ٹیم کی تکنیکی مہارت نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ صرف جنگ سے بچنے والا نہیں بلکہ امن قائم کرنے والا فریق نظر آیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی نوجوانی اور تدبر کا امتزاج عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو نئے لہجے میں بیان کر رہا تھا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان اب ردعمل کی پالیسی چھوڑ کر متحرک خارجہ پالیسی اپنا چکا ہے۔اس سب کے بیچ اگر کوئی تیسرا کردار تھا جس نے اس بار فیصلہ کن موڑ پیدا کیا تو وہ تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ جی ہاں، وہی ڈونلڈٹرمپ جو کبھی اپنے غیر متوقع بیانات سے خبروں کی زینت بنتے رہے مگر اس بار ان کا کردار غیر متوقع طور پر مثبت اور مصالحت آمیز نکلا۔ ان کی ٹیم نے دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ رابطے قائم کئے، انٹیلی جنس شیئرنگ کو ممکن بنایا اور ایک ایسا خاکہ ترتیب دیا جو بھارت کو بھی قابل قبول لگا اور پاکستان کو بھی۔ یہ کسی ڈیل میکر کا نہیں بلکہ ایک ثالث کا کردار تھااور اسی کردار کی بدولت وہ لمحہ آیا جب دونوں ممالک نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔مگر یہ سب کچھ صرف امن کے لیے نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک خواب بھی تھا اور وہ خواب ہے ترقی کا، خوشحالی کااورخطے کو یورپی یونین جیسے اتحاد میں ڈھالنے کا۔ ٹرمپ نے بارہا کہا کہ ’’ساؤتھ ایشیاء اگلا اکنامک ہب بن سکتا ہے اگر بھارت پاکستان ایک دوسرے کی راہ میں دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے پل بنائیں۔‘‘ جنگ بندی ہو چکی۔ لیکن اب کام ختم نہیں ہوا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم اس امن کو محض ایک وقفہ سمجھیں یا مستقل روش۔ یہ فیصلہ صرف حکومتی ایوانوں میں ہی نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ گلی، محلے، اسکول اور میڈیا رومز میں بھی ہوگا۔ اب ہمیں معاشی اصلاحات کی طرف بڑھنا ہے۔ تعلیم کو سیاست سے الگ رکھ کر نئی نسل کے ہاتھ میں ٹیکنالوجی دینی ہے۔
ہمیں نہ صرف سرحدی کشیدگی کم کرنی ہے بلکہ ذہنوں کی سرحدیں بھی نرم کرنی ہیں۔اب وقت ہے کہ ہم اپنی توانائی دشمنی پر خرچ کرنے کے بجائے سائنس، تعلیم اور ٹیکنالوجی پر لگائیں۔ ہمیں مصنوعی ذہانت، کلائمیٹ چینج، فوڈ سیکیورٹی اور ریجنل ٹریڈ جیسے ایشوز پر توجہ دینی ہے۔ ہمیں صرف اپنے لیے نہیں، پورے خطے کے لیے سیکھنا ہے، سکھانا ہے اور مثال بننا ہے۔ہمیں اس جنگ بندی کو محض ایک عارضی وقفہ نہیں بننے دینابلکہ اسے ایک مسلسل کوشش کا آغاز سمجھنا ہے۔ اگر فرانس اور جرمنی جیسی اقوام صدیوں کی دشمنی بھول کر ایک مشترکہ منڈی بنا سکتی ہیں تو ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر خلیج کے ممالک اسرائیل سے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان کیوں نہیں؟ دونوں کے پاس جوہری طاقت ہے مگر افسوس کہ دونوں کے عوام کے ہاتھ میں کتاب، کمپیوٹر اور ہنر اب تک کم ہی پہنچا ہے۔ستر سال سے ہم دنیا کو دکھاتے رہے کہ ہم کتنے طاقتور ہیں۔ اب وقت ہے دنیا کو یہ دکھانے کا کہ ہم کتنے ذہین اور سمجھدار بھی ہیں ۔ جنگ اب ہتھیاروں سے نہیں جیتی جائے گی۔ اب مقابلہ علم، تحقیق، ماحولیات اور معیشت کا ہے۔ ہمیں سائنس دان پیدا کرنے ہیں، امن کے سفیر تیار کرنے ہیں اور تعلیم کو اپنا اصل اسلحہ بنانا ہے۔پاکستانی فوج نے ہمیں محفوظ بنایا، اب حکومت اور عوام نے اس تحفظ کو استحکام دینا ہے۔ ٹرمپ نے دروازہ کھولا، اب ہمیں اندر قدم رکھ کر طویل المدتی پالیسیوں سے اسے مستقل راہ بنانا ہے اور سب سے بڑھ کر، ہمیں عاجزی سے وقار کے ساتھ اور خلوص نیت سے بھارت کی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم دشمن نہیں، شریکِ سفر بننا چاہتے ہیں۔ہم نے بہت خون بہا لیا، اب ہمیں خواب اگانے ہیں۔آخر میں، اس پورے منظر نامے کی ترجمانی کرتی رحمان فارس کی ایک غزل، جو دل کی گہرائیوں سے نکلی اور شاید وہ سب کچھ کہہ جائے جو الفاظ نہ کہہ سکے:
بہت سے کام رہتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کروڑوں لوگ بھوکے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کھلونوں والی عُمروں میں اِنہیں ہم موت کیوں بانٹیں؟
بڑے معصوم بچے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
پڑوسی یار! جانے دو، ہنسو اور مسکرانے دو
مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارہ ممکن ہے؟
کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں؟
پرندے دانہ چُگتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
چلو مل کر لڑیں ہم تُم جہالت اور غربت سے
بہت سپنے اُدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
سنبھالیں اُن کو مل جُل کر سکھائیں فن محبت کا
بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
اِدھر لاہور اُدھر دِلّی، کہاں جائیں گے ہم فارس
یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
یہ امن، یہ الفاظ، یہ خواب سب کچھ تبھی حقیقت بنیں کے جب ہم دشمنی کے سائے سے نکل کر ترقی کے سورج کی طرف قدم بڑھائیں گے۔ امن اور محبت کی زبان سب سے طاقتور ہے۔ پاکستان نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے، اب بھارت کی باری ہے۔آئیے، ہم سب مل کر اس حقیقت کو خواب بنائیں جہاں سرحدیں نہیں صرف انسانیت ہو، محبت اور امن ہو۔خدا سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی نہیں بلکہ ہے کہ ہم ا نہیں
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔