اپنے گھر کو مزید ٹھیک کرنا ہے، جب ہم گھر سے مضبوط ہوں گے تو کوئی ہمیں چیلنج نہیں کر سکےگا، شہریار آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے کہاہے کہ قوم کے جذبے اور صبرکو سلام پیش کرتے ہیں، ہم پر جب بھی آزمائش آتی ہے قوم ایک ہو جاتی ہے،اللہ ہمیں متحد رکھے،10مئی کے دن نے قوم کے جذبے میں نئی روح پھونکی ہے، ہم نے اپنے گھر کو مزید ٹھیک کرنا ہے، جب ہم گھر سے مضبوط ہوں گے تو کوئی ہمیں چیلنج نہیں کر سکےگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام زاتوں کے گلے لگنا ہے، پلوامہ واقعہ کے بعد دشمن بے نقاب ہوا، دنیا دشمن کے جال میں پھنس چکی تھی، 10مئی کے بعد دنیا کو پتہ چلا پاکستانی قوم کتنی متحد ہے؟ ایئرفورس نے نئی تاریخ رقم کی، ہم سب متحد ہیں،جو لوگ ابہام پھیلارہےہیں، وہ یہ نہ کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے سیز فائر جاری نہ رہنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر دیا
شہریار آفریدی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے ایک دوسرے کو اہمیت نہیں دی، غزہ کے لوگ اللہ کےبعد پاکستان کی طرف دیکھتےہیں، ایمان اور حق کی بات میں ہمیں ایک ساتھ جڑنا چاہیے، 10مئی کے بعد وہ پاکستان بن گیا جس میں جوانوں کے سر اُٹھ گئے ہیں، 10مئی کے بعد قوم نئے حوصلے کے ساتھ جینا شروع ہوئی ہے، ہم نے قوم کو قرضوں سے نکالنا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہناتھا کہ میرے عطاتارڑ سے لاکھ اختلافات ہوں لیکن انہیں بدلتے ہوئے دیکھا، وزیر تھا تو عید ایل او سی پر فوجی جوانوں کے ساتھ مناتا تھا، یہ صرف فوج کی جنگ نہیں،پوری قوم کی جنگ ہے۔ اےپی سی بلانی چاہیے،بانی پی ٹی آئی اوراخترمینگل کوبھی لاناچاہیے، ہم کسی قسم کی فیور نہیں چاہتے،ہم نے ایک ساتھ ملکر بیٹھنا ہے، بانی پی ٹی آئی سےلاکھ اختلاف ہو،لیکن وہ لوگوں کےدلوں میں دھڑکتے ہیں، ملک کیلئے ذاتی پسند ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔
" صدر ٹرمپ کو نیوکلیئر جنگ رکوانے کا وہ کریڈٹ نہیں ملا جو انہیں ملنا چاہیے" کشمیری ویٹر کا وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری سے مکالمہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔