ہماری ایئر فورس نے ثابت کیا مہنگا جہاز لینے سے دفاعی صلاحیت بہتر نہیں ہوتی، شبلی فراز
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ہماری ایئر فورس نے ثابت کیا صرف مہنگا جہاز لینے سے دفاعی صلاحیت بہتر نہیں ہوتی، میں ایئر فورس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ تمام عوام اکھٹے ہوگئے ہیں، ہمارا دشمن بری نیت رکھنے والا ہے، مودی کو پاکستان سے بہت نفرت ہے وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
مضمون میں کہا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو کسی پڑوسی ملک کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔
شبلی فراز نے کہا کہ ہمیں زیادہ محتاط ہونا ہوگا، اس کامیابی پر ہم چیزوں کو بڑھائیں، ہمیں اس پر خارجہ پالیسی میں فوائد حاصل کرنے ہیں، ہمارے دشمن نقصان پہنچانے کے لیےتاک پر رہیں گے۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہیں، ہمیں ملک میں سیاسی استحکام لانا ہوگا، سیاسی کیسز ختم کریں، سیاسی قیدی رہا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شبلی فراز
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔