ہماری ایئر فورس نے ثابت کیا مہنگا جہاز لینے سے دفاعی صلاحیت بہتر نہیں ہوتی: شبلی فراز
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ہماری ایئر فورس نے ثابت کیا صرف مہنگا جہاز لینے سے دفاعی صلاحیت بہتر نہیں ہوتی، میں ایئر فورس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
روز نامہ جنگ کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ تمام عوام اکٹھے ہوگئے ہیں، ہمارا دشمن بری نیت رکھنے والا ہے، مودی کو پاکستان سے بہت نفرت ہے وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
شبلی فراز نے کہا کہ ہمیں زیادہ محتاط ہونا ہوگا، اس کامیابی پر ہم چیزوں کو بڑھائیں، ہمیں اس پر خارجہ پالیسی میں فوائد حاصل کرنے ہیں، ہمارے دشمن نقصان پہنچانے کے لئے تاک پر رہیں گے۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہیں، ہمیں ملک میں سیاسی استحکام لانا ہوگا، سیاسی کیسز ختم کریں، سیاسی قیدی رہا کریں۔
چین کے نئی نسل کے ایٹمی ری ایکٹر نے ایک ہزار دنوں کا فعال آپریشن مکمل کرلیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شبلی فراز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔