امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب انڈیا نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا مکمل قبضہ جمایا، تو جنگ جو ابھی لڑی گئی وہ 2019 میں لڑی جانی چاہیے تھے، اس وقت بدقسمتی سے ہمارا آرمی چیف یہ کہتا تھا کہ ہمارے ٹینکوں میں پیٹرول نہیں ہے اور وزیراعظم کہتا تھا کہ کیا میں انڈیا پر حملہ کردوں؟ جب ایسی صورتحال تھی کیسے ہم انڈیا کے خلاف لڑسکتے تھے اور کیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے تھے۔

جماعت اسلامی کے زیراہتمام ایبٹ آباد میں ’دفاع پاکستان و غزہ مارچ‘ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستانی عوام دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے، جب ہمارے حکمران اور افواج اپنا اصل کام کرتے ہیں تو ہماری قوم سارے اختلافات بھلا کر واقعی ایک قوم بن جاتی ہے، اور جب ایک قوم بن جاتی ہے تو جنگیں ہم جیتتے بھی ہیں اور دشمن کو دھول چاٹنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو جواب دینا ناگزیر، کارکن قومی رضاکار بننے کے لیے تیار رہیں، حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب ہم نے انتشار اور اختلافات ختم کرکے جب قوم کو للکارا ہے تو قوم نے حکومت کا ساتھ دیا ہے، اس لیے اب یہ ذمہ داری حکومت اور افواج کی ہے کہ لوگوں کی مشکلات دور کی جائیں اور عوام کو پریشانیوں سے نکالنے کے لیے کردار ادا کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اسی طرح رویہ اپنائے گا جیسے ماضی میں کررہا تھا، بدقسمتی کی بات ہے کہ 2001 کے بعد پاکستان کے حکمران طبقے نے ملک کے لیے کوئی اچھا کردار ادا نہیں کیا، امریکا کی جنگ میں پاکستانیوں کو جھونک دیا گیا جس کے نتیجے میں ہمیں 150 سے 200 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، اس جنگ میں تقریبا ایک لاکھ لوگ، جن میں افواج کے سپاہی شامل ہیں وہ شہید ہوئے ہیں۔

’بم دھماکے ہوئے، قتل عام ہوا اور ایسا لگنے لگا کہ خود ہماری حکومت اور افواج ہمارے اپنے ہی لوگوں سے لڑ رہی ہیں، یہ سب اس لیے ہوا کہ امریکا کے کہنے پر ہم نے اپنی آزادی اور خود مختاری کا سودا کیا، اس کے نتیجے میں ہمارے مقدر میں پریشانی آئی، لیکن جب ہماری اس قوم نے اور حکومت نے دشمن کے مقابلے میں ہمت اور جرات سے کام لیا توالحمداللہ یہ قوم متحد بھی ہوئی ہے اور یک جان بھی ہوئی ہے، افواج کی پشت پر بھی کھڑی ہوئی ہے اور حکومت کو بھی اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا فالس فلیگ آپریشن ایکسپوز ہوگیا، پاکستان کشمیریوں کا مقدمہ لڑے : حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے کہا کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35-A ختم کیے، کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کی، کشمیر کا اسپیشل اسٹیٹس ختم کیا تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ یہ جنگ جو ابھی لڑی گئی وہ 2019 میں لڑی جاتی، اس وقت بدقسمتی سے ہمارا آرمی چیف یہ کہتا تھا کہ ہمارے ٹینکوں میں پیٹرول نہیں ہے اور وزیراعظم کہتا تھا کہ کیا میں انڈیا پر حملہ کردوں؟ جب ایسی صورتحال تھی کیسے ہم انڈیا کے خلاف لڑسکتے تھے اور کیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انڈیا نے پہلگام کا ڈرامہ کیا، بھارتی فوج نے ایک فالس فلیگ آپریشن کیا اور ساری دنیا کے سامنے ایک جھوٹ بولا، تو پاکستان نے جرات کے ساتھ انڈیا کو ایکسپوز کیا اور انڈیا خود اپنے جال میں آگیا، ہم نے دیکھا کہ وہ پاکستان پر اپنے الزامات ثابت نہیں کرسکا، ہم نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تو انڈیا اس مطالبے کو پورا نہیں کرسکا، انٹرنیشنل کمیونٹی میں انڈیا کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑی اور اس نے اس ہزیمت کو مٹانے کے لیے اس نے ہماری مساجد، ماؤں، بہنوں پر حملہ کیا، اس نے شہری آبادیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ہمارے بہت سارے لوگ شہید ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: صہیونیوں کا خواب گریٹر اسرائیل، مسلمان خاموش رہے تو کوئی محفوظ نہیں رہےگا، حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہماری افواج نے جب جواب دیا تو انڈیا پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا، پوری دنیا میں اگر کسی نے بھارت کا ساتھ دیا تو وہ اسرائیل تھا، اسرائیل کی ڈرون ٹیکنالوجی انڈیا نے استعمال کی، انڈیا نے 80 کے قریب ڈرون پاکستان بھیجے، ہماری افواج نے ان کو ناکارہ بھی کیا اور ان کو گرایا بھی، پوری قوم بہادری کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرتی رہی، لوگ کہنے لگے کہ ہم کب جواب دیں گے، ہمیں بھی جواب کا انتظار تھا لیکن پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔‘

’انڈیا میں تکبر تھا، بھارت اپنے ہندوتوا کی بنیاد پر جنونیت کا شکار تھا، اس کا میڈیا اور ملٹری جھوٹ بول رہی تھی، اس کے سفارتکار جھوٹ بول رہے تھے اور وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پاکستان کو دبا لیں گے، انہوں نے اپنی اسٹرائیک جاری رکھی، لیکن جب 10 مئی کی صبح ہماری افواج نے انڈیا پر حملہ کیا تو انڈیا کا غرور، گھمنڈ و تکبر ڈھیر ہوگیا، اس کو شکست فاش ہوگئی، اس کے جہاز بھی پہلے گرچکے تھے، اس کے بیسز تباہ ہوئے، اس کی ٹیکنالوجی کو بھی شکست ہوئی، اس نے فرانس سے رافیل لیے وہ ناکام کردیے، اس نے روس سے ٹیکنالوجی لی اور اس ٹیکنالوجی کو پاکستان نے برباد کرکے رکھ دیا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل امریکا امیرجماعت اسلامی بھارت پاکستان حافظ نعیم الرحمان دفاع پاکستان شکست غزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امیرجماعت اسلامی بھارت پاکستان حافظ نعیم الرحمان دفاع پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی انڈیا نے پر حملہ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی