برطانیہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیزفائر کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے.برطانوی وزیرخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 مئی ۔2025 )برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ ان کا ملک انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیزفائر کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات اور بات چیت بھی ہو پاکستان کہہ چکا ہے کہ امریکہ کے علاوہ برطانیہ اور دیگر ممالک نے بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ ہفتے دہائیوں بعد ہونے والی شدید ترین کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اس سیزفائر کے لیے تیز رفتار سفارتی کوشش 10 مئی کو کامیاب ہوئی لیکن سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سیزفائر اب بھی نازک حالت میں ہے.
(جاری ہے)
وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے دو روزہ دورے کے اختتام پر برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ ایک پائیدار جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ مذاکرات ہوں اور پاکستان اور انڈیا کے ساتھ مل کر یہ طے کیا جا سکے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور اعتماد سازی کے اقدامات کس طرح ممکن بنائے جا سکتے ہیں. پاکستان اور انڈیا نے کئی ہفتے تک جاری رہنے والی کشیدگی کے دوران ایک دوسرے کی حدود میں میزائل فائر کیے جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر جان لیوا حملے کے بعد شروع ہوئی نئی دہلی نے اس حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا تاہم پاکستان نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے علاقائی امن کو خطرے میں ڈال دیا جس کے نتیجے میں عالمی راہنماﺅں نے دونوں کو تحمل سے کام کرنے کی اپیل کی اور بالآخر 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں دونوں فریق سیزفائر پر راضی ہوگئے. ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ یہ دو ہمسایہ ممالک ہیں جن کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن حالیہ عرصے میں یہ ایک دوسرے سے مشکل سے ہی بات کر پائے ہیں اور ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کشیدگی دوبارہ نہ بڑھے اور جنگ بندی قائم رہے انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ ہم تمام فریقوں پر زور دیں گے کہ وہ معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کام جاری رکھے گا یہ اس ملک اور اس کے عوام اور یقیناً پورے خطے کے لیے بہت بڑی مصیبت ہے .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے ساتھ مل کر ڈیوڈ لیمی نے اور پاکستان پاکستان کے امریکہ کے کے درمیان کے لیے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔