برطانیہ؛ کنسرٹ میں اسرائیل کیخلاف نعرے بازی پر گلوکاروں کیخلاف تحقیقات
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
برطانیہ کے سب سے بڑے موسیقی میلے گلیسٹنبری میں دو فنکاروں پر اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کرنے پر انکوائری شروع کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے بتایا کہ دونوں ریپرز بینڈز باب وائلن اور نی کیپ کی پرفارمنسز کو پبلک آرڈر واقعہ کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔
دونوں ریپرز پر الزام ہے کہ انھوں نے نہ صرف اسرائیل اور یہودی مخالف نعرے بازی کی بلکہ برطانوی وزیراعظم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
برطانوی پولیس آئرش ریپ بینڈ Kneecap نے وزیرِاعظم کئیر اسٹارمر پر تنقید کی، جبکہ پَنک-ریپ جوڑی Bob Vylan نے اسرائیلی فوج کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔
اس موقع پر شائقین نے فلسطینی پرچم تھامے ہوئے تھے اور گلوکاروں کے نعروں کا پُرجوش جواب دے رہے تھے۔
یاد رہے کہ آئرش بینڈ Kneecap کے ایک اور رکن لیام اوہانا (اسٹیج نام: مو چارا) پر گزشتہ برس حزب اللہ کا پرچم لہرانے اور "اپ حماس، اپ حزب اللہ" کا نعرہ لگانے پر رواں ماہ مقدمے سماعت ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں حماس اور حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے، اور ان کی حمایت کرنا قانونی جرم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :