برطانیہ میں گلاسٹنبری میوزک فیسٹیول کے دوران اسرائیلی فوج کے خلاف اور فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے پر امریکی حکومت نے میوزک بینڈBob Vylan  کے اراکین کے امریکی ویزے منسوخ کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی طلبہ امریکا کے نشانے پر، ویزوں کی ’جارحانہ‘ منسوخی پر چین کا شدید ردعمل

غیر ملکی میڈیا کے مطابق شو کے دوران بینڈ کے گلوکار نے اسٹیج پر نعرے لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ڈی ایف مردہ باد لگائے۔ انہوں نے ’دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو کر رہے گا‘ کا نعرہ بھی بلند کیا تھا۔

اس دوران بینڈ کی پرفارمنس کو براہ راست نشر کیا گیا تھا جس پر بعد ازاں بی بی سی نے کہا تھا کہ اس قسم کے نعروں کے دوران لائیو نشریات کو روکا جانا چاہیے تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گلاسٹنبری میں کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر اور نعروں کی روشنی میں Bob Vylan  کے اراکین کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: بین الاقوامی طلبا کے ویزوں کی منسوخی، نئی امریکی پالیسی کیا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ وہ غیر ملکی جو نفرت اور تشدد کی ترویج کرتے ہیں لہٰذا ان کا امریکا میں خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازعے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی بحث کا حصہ بن گیا ہے جس میں مختلف ممالک کی حکومتیں اپنے موقف کا اظہار کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ کا دورہ کرنے والے امریکی ویزا درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھنے کا حکم

واضح رہے کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے گلوکاروں کی جانب سے مختلف عالمی سطح پر ردعمل سامنے آتے ہیں جہاں بعض افراد اس کو اظہار رائے کی آزادی کا حصہ سمجھتے ہیں تو دوسرے اسے قومی مفادات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی ویزے امریکی ویزے منسوخ برطانوی ریپ برطانوی میوزک بینڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ویزے امریکی ویزے منسوخ برطانوی ریپ برطانوی میوزک بینڈ

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی