مقدسات کا احترام یقینی بنایا جائے، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( صباح نیوز) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرمحمدراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ قیام امن کیلئے مقدسات دین کااحترام یقینی بنایا جائے، خوارج اورانتشاری عناصر کیخلاف سخت قانونی کارروائی جائے، محرم الحرام کے لیے حکومت کے جاری ضابطہ اخلاق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات اظہار انہوں نے تحفظ ناموس رسالت محاذ لاہور کے زیراہتمام
پریس کلب لاہور تا وزیراعلیٰ ہائوس عظیم الشان عظمت صحابہ کرام واہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ تمام مقدسات دین اورمسلمہ امہ کی مقدس شخصیات کااحترام ہرمسلمان پرلازم ہے اوریہی آئین پاکستان کابھی تقاضہ ہے۔ پیغام پاکستان کے مطابق محرم الحرام کے مہینے میںبالخصوص اورہمیشہ کے لیے بالعموم کوئی بھی شخص ان مقدس شخصیات کااہانت وتنقیص اپنی تقریر وتحریر سے نہ کرے۔صوبہ پنجاب میں متحد ہ علماء بورڈکے ضابطہ اخلاق پرسختی سے عمل کرا یا جائے۔علماء کرا م امن و امان کے قیام کے لئے ہر ممکن اپنا تعاون کرتے رہیں گے ۔ بلوچستان او رخیبر پختونخواہ میں فتنہ ہندوستان اورخوارج کی بزدلانہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی شدیدمذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتشار پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔