WE News:
2026-06-03@05:31:56 GMT

پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، شیر افضل مروت

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، شیر افضل مروت

رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مجھے پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی مردہ گھوڑا تھی، آج پھر پارٹی اسی پوزیشن پر آ کھڑی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جس کو سوشل میڈیا پر غدار نہ کہا گیا ہو، یہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ کر رہے ہیں، یہ لوگ 9 مئی کے بعد غاروں میں چھپ گئے تھے، کیا یہ آج عمران خان کو جیل سے نکالیں گے؟

یہ بھی پڑھیں: الیکشن میں دھاندلی کے خلاف عمران خان اور شیرافضل مروت کی درخواستیں قابل سماعت قرار

شیر افضل مروت نے کہا کہ مجھے پارٹی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، یہ بات میں پی ٹی آئی کی تحقیر کے لیے نہیں کر رہا، میں جو بھی بات کرتا ہوں اس کا مطلب پی ٹی آئی یا علیمہ خان کی تحقیر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی مردہ گھوڑا تھی، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم فضا میں غبارے چھوڑیں گے، ہم نے کہا کہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں، 99 فیصد پی ٹی آئی کے لوگوں نے غبارے چھوڑے، ان غباروں پر قیدی نمبر 804 یا جو بھی پیغام تھا وہ ہم نے دیا، لیکن کسی نے بھی غبارے چھوڑتے ہوئے اپنی تصویر شیئر نہیں کی، ڈر کا یہ عالم تھا کہ غبارے تو چھوڑ دیے لیکن یہ نہیں دکھایا کہ چھوڑے کس نے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پچھلے ایک سال، سوا سال سے بہت پیچھے چلی گئی ہے، اس عرصے میں ایسے فیصلے ہوئے کہ پی ٹی آئی کو شکست و ریخت کا سامنا ہے، 8 فروری کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا تو نئی قیادت آئی جس نے آتے ہی پی ٹی آئی کے اچھے لوگوں پر حملے شروع کیے، آج اگر دیکھیں تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے طفیل کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جو غدار نہ ڈکلیئر کیا گیا ہو، تو اس قیادت کے ساتھ کون نکلے گا، جس کی اپنی میڈیا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو بار بار نشانہ بنایا، کوئی ایک ایسا شخص چھوڑا ہی نہیں ہے کہ اس پر لوگوں کا اعتقاد آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے شیر افضل مروت سے متعلق سخت ریمارکس، وکلا سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

شیر افضل مروت نے کہا کہ تھوڑا سا بھی سوشل میڈیا کے برخلاف بات کرتے ہیں تو گالم گلوچ شروع ہو جاتی ہے، کیا کوئی جنگ کسی قوم نے گالیوں سے جیتی ہے، میں خود ایک سال سے گالم گلوچ کا سامنا کر رہا ہوں، اس لیے کہ نہ میں کسی کے لیے جھوٹ بول سکتا ہوں، نہ کسی کے وہ کارنامے جو کسی نے کبھی کیے ہی نہیں، وہ جھوٹ موٹ کارنامے بتا سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا ’میں ایک سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، حقیقت بولوں گا چاہے پارٹی کے حق میں ہو یا پارٹی کے خلاف ہو، ہماری پارٹی آج اس مقام پر دوبارہ کھڑی ہے جہاں 9 مئی کے بعد کھڑی تھی، اس کی تحریک کی صلاحیت نہیں رہی، میں بار بار کہتا آیا ہوں کہ یہ لوگ دھوکہ دے رہے ہیں، ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں کہ ہم تحریک چلائیں گے اور انقلاب لائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ 9 مئی کے بعد زندہ تھے، غاروں میں چھپ گئے تھے، اس وقت نہیں نکلے تو کیا یہ آج عمران خان کو جیل سے نکلوائیں گے، ان لوگوں نے جس مقام پر پی ٹی آئی کو پہنچا دیا ہے، نہ ن لیگ کی ریشہ دوانی کی ضرورت ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی کی ضرورت ہے، مجھے پارٹی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شیرافضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دیا نہ ان سے وضاحت مانگی، بیرسٹر گوہر

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صرف کے پی میں حکومت رہ گئی تھی، اس کو بھی بجٹ کے نام پر ذلیل کیا گیا، یعنی کور کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی، سیاسی کمیٹی، اسپیکر، چیف منسٹر اور کابینہ نے یہ بجٹ پاس کیا، ان کو تکلیف تھی کہ کیوں پاس کیا، ہائیکورٹ کے سامنے کے پی کی قیادت اور کے پی کابینہ کو گالیاں دی گئیں۔

انہوں نے کہا ’مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز کے پاس اب کوئی امید نہیں رہی، جن لوگوں کی ہم ہمت بندھاتے تھے، جن کو ہم تقویت دیتے تھے، آج ان کے پاس کون سا ایسا لیڈر ہے جس کا کردار اتنا صاف ہو کہ وہ کہیں کہ واقعی یہ ان کے لیے مخلص ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

9مئی we news بجٹ پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت علیمہ خان عمران خان مردہ گھوڑا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت علیمہ خان مردہ گھوڑا کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے شیر افضل مروت نے کہا پی ٹی آئی کے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا مئی کے بعد نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا