WE News:
2026-07-24@09:17:14 GMT

پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، شیر افضل مروت

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، شیر افضل مروت

رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مجھے پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی مردہ گھوڑا تھی، آج پھر پارٹی اسی پوزیشن پر آ کھڑی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جس کو سوشل میڈیا پر غدار نہ کہا گیا ہو، یہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ کر رہے ہیں، یہ لوگ 9 مئی کے بعد غاروں میں چھپ گئے تھے، کیا یہ آج عمران خان کو جیل سے نکالیں گے؟

یہ بھی پڑھیں: الیکشن میں دھاندلی کے خلاف عمران خان اور شیرافضل مروت کی درخواستیں قابل سماعت قرار

شیر افضل مروت نے کہا کہ مجھے پارٹی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، یہ بات میں پی ٹی آئی کی تحقیر کے لیے نہیں کر رہا، میں جو بھی بات کرتا ہوں اس کا مطلب پی ٹی آئی یا علیمہ خان کی تحقیر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی مردہ گھوڑا تھی، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم فضا میں غبارے چھوڑیں گے، ہم نے کہا کہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں، 99 فیصد پی ٹی آئی کے لوگوں نے غبارے چھوڑے، ان غباروں پر قیدی نمبر 804 یا جو بھی پیغام تھا وہ ہم نے دیا، لیکن کسی نے بھی غبارے چھوڑتے ہوئے اپنی تصویر شیئر نہیں کی، ڈر کا یہ عالم تھا کہ غبارے تو چھوڑ دیے لیکن یہ نہیں دکھایا کہ چھوڑے کس نے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پچھلے ایک سال، سوا سال سے بہت پیچھے چلی گئی ہے، اس عرصے میں ایسے فیصلے ہوئے کہ پی ٹی آئی کو شکست و ریخت کا سامنا ہے، 8 فروری کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا تو نئی قیادت آئی جس نے آتے ہی پی ٹی آئی کے اچھے لوگوں پر حملے شروع کیے، آج اگر دیکھیں تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے طفیل کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جو غدار نہ ڈکلیئر کیا گیا ہو، تو اس قیادت کے ساتھ کون نکلے گا، جس کی اپنی میڈیا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو بار بار نشانہ بنایا، کوئی ایک ایسا شخص چھوڑا ہی نہیں ہے کہ اس پر لوگوں کا اعتقاد آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے شیر افضل مروت سے متعلق سخت ریمارکس، وکلا سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

شیر افضل مروت نے کہا کہ تھوڑا سا بھی سوشل میڈیا کے برخلاف بات کرتے ہیں تو گالم گلوچ شروع ہو جاتی ہے، کیا کوئی جنگ کسی قوم نے گالیوں سے جیتی ہے، میں خود ایک سال سے گالم گلوچ کا سامنا کر رہا ہوں، اس لیے کہ نہ میں کسی کے لیے جھوٹ بول سکتا ہوں، نہ کسی کے وہ کارنامے جو کسی نے کبھی کیے ہی نہیں، وہ جھوٹ موٹ کارنامے بتا سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا ’میں ایک سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، حقیقت بولوں گا چاہے پارٹی کے حق میں ہو یا پارٹی کے خلاف ہو، ہماری پارٹی آج اس مقام پر دوبارہ کھڑی ہے جہاں 9 مئی کے بعد کھڑی تھی، اس کی تحریک کی صلاحیت نہیں رہی، میں بار بار کہتا آیا ہوں کہ یہ لوگ دھوکہ دے رہے ہیں، ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں کہ ہم تحریک چلائیں گے اور انقلاب لائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ 9 مئی کے بعد زندہ تھے، غاروں میں چھپ گئے تھے، اس وقت نہیں نکلے تو کیا یہ آج عمران خان کو جیل سے نکلوائیں گے، ان لوگوں نے جس مقام پر پی ٹی آئی کو پہنچا دیا ہے، نہ ن لیگ کی ریشہ دوانی کی ضرورت ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی کی ضرورت ہے، مجھے پارٹی کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شیرافضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دیا نہ ان سے وضاحت مانگی، بیرسٹر گوہر

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صرف کے پی میں حکومت رہ گئی تھی، اس کو بھی بجٹ کے نام پر ذلیل کیا گیا، یعنی کور کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی، سیاسی کمیٹی، اسپیکر، چیف منسٹر اور کابینہ نے یہ بجٹ پاس کیا، ان کو تکلیف تھی کہ کیوں پاس کیا، ہائیکورٹ کے سامنے کے پی کی قیادت اور کے پی کابینہ کو گالیاں دی گئیں۔

انہوں نے کہا ’مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز کے پاس اب کوئی امید نہیں رہی، جن لوگوں کی ہم ہمت بندھاتے تھے، جن کو ہم تقویت دیتے تھے، آج ان کے پاس کون سا ایسا لیڈر ہے جس کا کردار اتنا صاف ہو کہ وہ کہیں کہ واقعی یہ ان کے لیے مخلص ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

9مئی we news بجٹ پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت علیمہ خان عمران خان مردہ گھوڑا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت علیمہ خان مردہ گھوڑا کا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے شیر افضل مروت نے کہا پی ٹی آئی کے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا مئی کے بعد نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر