ائیرانڈیا کے طیارے موت کی مشینیں بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی:بھارت میں فضائی سفر دن بہ دن خطرناک ہوتا جارہا ہے،انڈین ائیر لائن کے طیارے موت کی مشینیں بن گئیں،ایک اور طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا، احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے کے دو دن سے بھی کم وقت بعد دہلی سے ویانا جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-187 (بوئنگ 777) ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی ہوا میں 900 فٹ نیچے گر جاتی۔ یہ واقعہ 14 جون 2025 کو صبح 2:56 بجے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے کے فوراً بعد پیش آیا تھا۔
ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کی دیکھ بھال اور آپریشنل خامیوں کی گہرائی سے تحقیقات شروع کی ہے۔ ٹریکنگ ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ خراب موسم میں طیارہ صبح 2:56 بجے دہلی سے اڑان بھرا۔ اس دوران کاک پٹ میں کئی وارننگ دی گئیں۔ ڈی جی سی اے نے اس کی جانچ شروع کردی ہے۔
حکام کے مطابق جہاز میں اسٹال وارننگ اور گراو¿نڈ پروکسیمیٹی وارننگ سسٹم کی وارننگز کو ایکٹیویٹ کیا گیا تھا جس کے ساتھ ہی ‘ڈو ناٹ سنک’ الرٹ بار بار سنائی دے رہا تھا۔ پائلٹوں نے تیزی سے کام کرتے ہوئے طیارے کو مستحکم کیا اور 9 گھنٹے کی پرواز کے بعد اسے ویانا میں بحفاظت لینڈ کیا۔تاہم اس واقعے نے ایئر انڈیا کے سیکورٹی سسٹم پر ایک بار پھر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ 12 جون 2025 کو احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے میں 241 لوگوں کی موت کے 38 گھنٹے بعد ہوا ہے۔ایئر انڈیا نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ایئر انڈیا کے ایک ترجمان نے کہا کہ پائلٹ کی رپورٹ ملنے کے بعد اس معاملے کی اطلاع ڈی جی سی اے کو قواعد کے مطابق دی گئی۔ جس کے بعد طیارے کے ریکارڈر سے ڈیٹا حاصل کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔ تحقیقات کے نتائج آنے تک پائلٹس کو روسٹر سے نکال دیا گیا ہے۔
ایئر لائن کو دی گئی ابتدائی پرواز کے عملے کی رپورٹ میں صرف ہنگامہ خیزی اور اسٹک شیکر وارننگز کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم، ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (DFDR) کے تفصیلی تجزیے سے اضافی اہم انتباہات سامنے آئے جن کا اصل میں انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر فلائٹ AI-171 طیارہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن کے لیے اڑان بھرنے کے فوراً بعد ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس میں سوار 242 افراد میں سے 241 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ڈی جی سی اے کے ایک آڈٹ میں ایئر انڈیا کے ہوائی جہاز میں بار بار دیکھ بھال کی غلطیوں اور خرابیوں کو دور کرنے میں لاپروائی کا انکشاف ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا کے ڈی جی سی اے کے طیارے گیا تھا
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔