این ڈی ایم اے کی پہاڑی علاقوں میں سیاحت محدود کرنے کی ایڈوائزری
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پہاڑی علاقوں میں سیاحت محدود کرنے کی ایڈوائزری جاری کر دی۔
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق آفات سے متاثرہ علاقوں میں عوامی تحفظ کے لیے سیاحتی پابندیاں نافذ کی جائیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کو سرکاری ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ متعلقہ اداروں کو سیاحتی سرگرمیوں پر فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے، جس میں کہا گیا کہ مون سون کے سلسلے کے دوران خطرناک علاقوں میں عوامی آمد و رفت محدود کی جائے۔
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق ضرورت پڑنے پر دفعہ 144 کے تحت سیاحتی پابندیاں نافذ کی جاسکتی ہیں، عوام متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
اعلامیے کے مطابق سیاحتی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے علاقوں میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔