بِھڑوں کے حملوں سے بچنے کا آسان طریقہ، انہیں تھوڑا ’بھتہ‘ دیں!
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
گرمیوں کے لمبے دن پکنک کے لیے بہترین ہوتے ہیں لیکن بِھڑ (تتیا) اکثر بغیر بلائے مہمان کی طرح آ کر خوشگوار لمحات خراب کر دیتی ہیں۔ ایک آسان طریقہ ہے جو آپ کو ان کے حملوں سے بچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب ویلز کے رہائشی کو بھڑوں سے بھڑنا مہنگا پڑگیا
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں دی کانورسیشن میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ زیادہ تر لوگ بھڑ سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں جارحانہ اور تکلیف دہ حشرات سمجھا جاتا ہے لیکن زمین پر جنگلی حیات کی کمی کے اس دور میں ہمیں ہر جاندار کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا حتیٰ کہ بھڑوں کے ساتھ بھی۔ بھڑیں اہم پولینیٹر اور دوسرے حشرات کی دشمن ہوتے ہیں۔
اگر آپ ان کی فطرت کو سمجھ لیں تو پکنک کے دوران ان کے ساتھ آرام سے کھا سکتے ہیں۔
عام طور پر جو بھڑیں آپ کی پکنک پر آتی ہیں وہ اچانک نمودار ہوتی ہیں۔ تو ایسی صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ساکت رہیں، آپ کی حرکت انہیں مشتعل کر سکتی ہے
یہ بھڑیں مادہ ہوتی ہیں اور وہ خوشبو کے ذریعے آپ کے کھانے تک پہنچتی ہیں لیکن وہ اب بصری نشانات جیسے آپ اور آپ کا ماحول دیکھ کر راستہ تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔ اپنے منہ کو بند رکھیں اور زیادہ سانس نہ لیں تاکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم ہو جو بھڑ کے لیے خطرے کی علامت ہوتی ہے۔ چیخنا یا ہاتھ ہلانا انہیں حملہ کرنے پر اکسا سکتا ہے۔
دھیان دیں وہ کیا کھا رہی ہیں؟بھڑ اپنے بچے کو کھلانے کے لیے کھانا تلاش کرتی ہے۔ اگر وہ آپ کے برگر یا سینڈوچ کا ٹکڑا، جام کا چمچ یا میٹھا مشروب لے رہی ہے تو دھیان رکھیں کیونکہ یہی وہی چیز ہے جو وہ لے کر جائے گی۔
بھڑ جلدی واپس آتی ہے اور اگر آپ اس کے لیے اس چیز کا ایک چھوٹا حصہ الگ رکھیں جو وہ لے لیتی ہے تو پھر زیادہ پریشان نہیں کرتی۔ آپ آہستہ آہستہ اس پیشکش کو اپنے کھانے سے دور لے جا سکتے ہیں تاکہ پکنک یا جہاں بھی آپ بیٹھے ہیں پر سکون رہیں۔
مزید پڑھیے: تتلیوں کا شوقین معمر شخص جس کے کلیکشن پر جوان بھی رشک کریں
خوش قسمتی سے ایک بھڑ اپنے دوستوں کو پکنک کی طرف نہیں لاتی کیونکہ وہ دوسروں کو جمع کرنے میں زیادہ ماہر نہیں ہوتی۔
بھڑ کے کھانے کی عادات موسم کے ساتھ بدلتی ہیں۔ موسم گرما کے شروع میں وہ پروٹین جیسے گوشت کی تلاش میں ہوتی ہیں کیونکہ ان کے بچے گوشت خور ہوتے ہیں۔ موسم کے آخر میں جب بچے پروان چڑھ جاتے ہیں تو وہ میٹھے پھل یا شہد کی تلاش میں ہوتی ہیں۔
یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ چھوٹے چھوٹے ’پیسٹ کنٹرولرز‘ کو کھلا رہے ہیں جو مکھیوں، کیڑوں اور دیگر حشرات کی تعداد کو قابو میں رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پودے بھی جانداروں سے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں، حیرت انگیز تحقیق
بھڑ کے جسم کا پتلا حصہ (اس کی کمر) اس کو شکار کو قابو میں رکھنے کے قابل بناتا ہے اور وہ اپنی مخصوص خوراک بچوں کو فراہم کرتی ہے۔ موسم کے آخر میں جب بچوں کو خوراک کی ضرورت کم ہوتی ہے تو بھڑ پھولوں سے رس لینے لگتی ہے لیکن آپ کا میٹھا جام یا لیمونیڈ اب بھی ان کے لیے کشش کا باعث ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھڑ بھڑ سے بچاؤ بھڑ کو بھتہ بھڑوں کے حملے تتیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھڑ ہوتے ہیں ہوتی ہیں کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔