گزشتہ 6 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
—فوٹو: اے ایف پی
خیبر پختونخوا میں 6 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں مزید 145 افراد جاں بحق ہو گئے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق ملک بھر میں 6 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں 151 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
6 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں خیبر پختونخوا میں 137 افراد زخمی ہوئے جبکہ اسی دوران باشوں اور سیلاب سے گلگت بلتستان میں 4 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں کلاؤڈ برسٹ کے خدشات خیبرپختونخوا: بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 321 ہوگئیاین ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ 25 جون سے ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں 658 افراد جاں بحق اور 905 زخمی ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 25 جون سے بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں 396 افراد، پنجاب میں 164 افراد، سندھ میں 28 افراد، بلوچستان میں 20 افراد، گلگت بلتستان میں 28 افراد، آزاد کشمیر میں 14 افراد اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
بارشوں کے باعث ملک بھر میں 1913 مکانات گر گئے، جبکہ 587 مویشی ہلاک ہو گئے۔
گزشتہ 6 گھنٹوں میں ملک بھر میں جاں بحق ہونے والوں 151 افراد میں 124 مرد، 16 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں جبکہ اس دوران زخمی ہونے والے 137 افراد میں 107 مرد، 20 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں میں بارشوں اور سیلاب افراد جاں بحق ملک بھر میں گھنٹوں میں
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔