مودی کے ذریعے آر ایس ایس کی تعریف جدوجہد آزادی کی توہین ہے، اسد الدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ آر ایس ایس نے نہ صرف تحریکِ آزادی میں حصہ نہیں لیا بلکہ انگریزوں کے سائے میں رہتے ہوئے مجاہدینِ آزادی سے نفرت کی۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے آر ایس ایس کی تعریف کو "آزادی کی جدوجہد کی بڑی توہین" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے نہ صرف تحریکِ آزادی میں حصہ نہیں لیا بلکہ انگریزوں کے سائے میں رہتے ہوئے مجاہدینِ آزادی سے نفرت کی۔ اسد الدین اویسی نے کہا بھارتی وزیراعظم کی جانب سے آر ایس ایس کی تعریف شامل قومیّت (Inclusive Nationalism) کی مخالفت ہے، جس کی بنیاد پر ملک آزاد ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس کا ہندوتوا نظریہ مکمل طور پر بھارتی آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی آر ایس ایس ہیڈکوارٹر گئے تو میں نے کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ تاحیات سویم سیوک ہیں، لیکن وزیراعظم کی حیثیت سے نفرت پھیلانے والی تنظیم کی تعریف کرنا غلط ہے۔
اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ عدم تعاون تحریک، ستیہ گرہ مہم، رولٹ ایکٹ کی مخالفت، سول نافرمانی تحریک، بھارت چھوڑو تحریک، ممبئی نیول بغاوت ان سب میں آر ایس ایس کہاں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا حلف صرف ایک برادری کے مذہب، سماج اور ثقافت کی بات کرتا ہے۔ اسد الدین اویسی نے یاد دلایا کہ 1941ء میں جب شیاما پرساد مکھرجی بنگال کابینہ کے وزیر تھے تو فضل الحق مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان (1940ء) کے محرک تھے۔ انہوں نے چین کے خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 25 پیٹرولنگ پوائنٹس کھو دیے ہیں، ہمیں خطرہ چین سے ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ مسترد کیا کہ مسلمانوں نے تقسیم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے کہ تقسیم کے ذمے دار مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت صرف 2-3 فیصد مسلمانوں کو ووٹ کا حق حاصل تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی نے کہا کہ آر ایس ایس انہوں نے کہا کہ کی تعریف
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔