Islam Times:
2026-07-24@03:29:13 GMT

امام حسین (ع) کی یاد میں، 78 واں یومِ آزادی

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

امام حسین (ع) کی یاد میں، 78 واں یومِ آزادی

اسلام ٹائمز: کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا قیام اصول اور حق کی حفاظت کے لیے تھا۔ انہوں نے یزید کے باطل نظام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسلام کی اصل تعلیمات کو بچانے کے لیے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان قربان کر دی۔ قیامِ پاکستان میں بھی یہی اصول کار فرما تھے۔ ایمان، قربانی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا۔ لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی، اپنی جانیں اور املاک قربان کیں تاکہ ایک آزاد اسلامی ریاست قائم ہو۔ دونوں تحریکیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ نظریے کی حفاظت قربانی سے ہی ممکن ہے۔ تحریر: آغا زمانی

14 اگست 1947ء کا دن ہماری قومی تاریخ کا سب سے اہم دن ہے۔ یہ دن اس جدو جہد اور قربانی کی یاد دلاتا ہے جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔ آج جب ہم 78واں یومِ آزادی منارہے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی کو یاد کر کے یہ سوچنا چاہیئے کہ یہ ملک کس مقصد کے لیے بنایا گیا اور ہم نے اسے کس حد تک اس مقصد کے مطابق بنایا ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ ہم پاکستان کے قیام کی تاریخ، مکتبِ تشیع کی قربانیوں اور امام حسین علیہ السلام کے قیام سے مماثلت کو بھی سمجھیں۔

نظریۂ پاکستان:
نظریۂ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں مسلمان آزاد ہو کر اپنے دین اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں نے واضح کیا تھا کہ پاکستان ایک ایسی مملکت ہوگی جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوگی اور جہاں سب کو برابری کے حقوق حاصل ہوں گے۔ یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ تھا۔ خود مختاری، دینی آزادی اور انصاف کا نظریہ۔

قائداعظم کا وژن اور سب کے لیے مساوی حقوق:
قائداعظم نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر سوچا جہاں ہر شہری کو، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، یکساں انسانی حقوق حاصل ہوں۔ 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا: "آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جانے کے لیے، اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے، یا کسی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اس کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔" (حوالہ: Speeches and Statements of the Quaid-e-Azam 1947–1948, جلد دوم، مرتب: خواجہ ریاض الدین، صفحہ 404۔ نیز یہ تقریر پاکستان آرکائیوز اور متعدد تاریخی کتب میں بطور "قائداعظم کا 11 اگست کا خطاب" موجود ہے۔) یہ وژن پاکستان کو ایک متحد اور پرامن ملک بنانے کے لیے تھا، جہاں سب ایک قوم کی طرح رہیں۔

پاکستان میں مکتبِ تشیع کی قربانیاں اور خدمات:
شیعہ رہنماؤں، علماء اور عوام نے پاکستان کے قیام اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تاریخی شواہد کے مطابق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا تعلق خوجہ اثنا عشری شیعہ خاندان سے تھا۔ سید ابوالحسن اصفہانی برصغیر کے نامور شیعہ کاروباری شخصیت اور سیاسی رہنما تھے جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں قائد اعظم کے شانہ بشانہ بھرپور جدو جہد کی۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم رکن تھے اور برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے سیاسی سطح پر مہمات چلائیں۔ قیامِ پاکستان کے حق میں انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا، متعدد اجلاسوں اور جلسوں میں کھل کر مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے حق میں دلائل دیے اور کئی مواقع پر قائد اعظم کو عوامی حمایت فراہم کی۔

اسی طرح راجہ صاحب آف محمود آباد، جن کا اصل نام محمد امیر احمد خان تھا، تحریکِ پاکستان کے سب سے بڑے مالی مددگاروں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی جاگیروں، دولت اور وسائل کو تحریکِ پاکستان کے لیے وقف کردیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے نہ صرف سرگرم رکن تھے بلکہ قائد اعظم کے قریبی ساتھی بھی تھے۔ انہوں نے متعدد کانفرنسوں میں مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے جرات مندانہ تقریریں کیں اور آزادی کی تحریک کے لیے اپنی ذاتی جائیداد تک فروخت کر دی۔ ان بے لوث شخصیات کی قربانیاں اور عزم اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا قیام صرف سیاسی خواب نہیں بلکہ عملی جدو جہد اور خلوص کی بنیاد پر ممکن ہوا۔ یہ مخلص رہنما فرقہ واریت سے بالاتر ہوکر ایک متحدہ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے سرگرم رہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا خواب سب مسلمانوں کا مشترکہ مقصد تھا۔

تحریک پاکستان کا ایک اہم نام علامہ ابن حسن جارچوی (1905-1973ء) برصغیر کی ایسی علمی و سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں فکری، خطیبانہ اور عملی سطح پر نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایک جید عالم، فلسفی، مصنف، خطیب اور بے باک سیاستدان تھے جنہوں نے نہ صرف قائد اعظم کے قریبی رفقا کتبِ رہ کر دو قومی نظریے کا دینی جواز پیش کیا بلکہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف ڈٹ کر جمہوریت کی حمایت کی۔ انہوں نے تدریس، تصنیف اور مناظروں کے ذریعے ملتِ اسلامیہ خصوصاً شیعہ برادری کو فکری و عملی قوت بخشی اور اپنی زندگی اصول پسندی، درویشی اور علمی خدمات کے لیے وقف کی۔ محترمہ فاطمہ جناح کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے لے کر جدید شیعہ نصاب اور ادارہ جاتی اصلاحات تک ان کی خدمات تاریخ میں محفوظ ہیں۔

متعدد کتب کے مصنف اور شیعہ تھیالوجی کے پہلے پروفیسر کے طور پر وہ پاکستان کے علمی و سیاسی منظرنامے کے ایک فراموش مگر درخشندہ مجاہد قرار دیے جا سکتے ہیں۔ (استفادہ از مضمون ''علامہ ابن حسن جارچوی: تحریکِ پاکستان کا فراموش مجاہد'' تحریر: سید نثار علی ترمذی ۔ حوالہ: https://share.

google/4GfgUjbIIIReRVJDr)۔ اسی طرح علامہ سید محمد دہلوی اور دیگر علماء نے بھی مسلمانوں کو قیام پاکستان کی حمایت کے لیے آمادہ کیا۔ قیام کے بعد شیعہ شخصیات نے فوج، تعلیم، صحت اور فلاحی میدانوں میں بھرپور خدمات انجام دیں۔ جنگوں میں شیعہ افسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں ان نمایاں ناموں میں کیپٹن سرور شہید اور میجر شبیر شریف شہید کے نام شامل ہیں۔

وطن سے محبت اور قربانی کا جذبہ:
اسلام ہمیں وطن سے محبت اور اس کے دفاع کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مکہ کو چھوڑتے ہوئے اس کی محبت کا اظہار کیا۔ پاکستان ہم سب کا گھر ہے، اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے قربانی دینا ہمارا فرض ہے۔ چاہے یہ قربانی جان کی ہو، وقت کی ہو یا ذاتی مفادات کی۔

قیامِ امام حسین علیہ السلام اور قیامِ پاکستان کا تقابلی جائزہ:
کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا قیام اصول اور حق کی حفاظت کے لیے تھا۔ انہوں نے یزید کے باطل نظام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسلام کی اصل تعلیمات کو بچانے کے لیے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان قربان کر دی۔ قیامِ پاکستان میں بھی یہی اصول کار فرما تھے۔ ایمان، قربانی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا۔ لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی، اپنی جانیں اور املاک قربان کیں تاکہ ایک آزاد اسلامی ریاست قائم ہو۔ دونوں تحریکیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ نظریے کی حفاظت قربانی سے ہی ممکن ہے۔

آج کے دور میں ہماری ذمہ داریاں:
78 سال بعد بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم: نظریۂ پاکستان کی حفاظت کریں۔ فرقہ واریت اور انتشار سے بچیں۔ تعلیم، محنت اور اخلاق سے ملک کو ترقی دیں۔ امام حسین علیہ السلام کی طرح حق کے لیے کھڑے ہوں۔

آخری گزارش:
پاکستان ایک عظیم نعمت ہے جو بے شمار قربانیوں کے بعد ملی۔ شیعہ اور سنی سب نے مل کر اس وطن کے قیام اور بقاء کے لیے کردار ادا کیا۔ قیامِ پاکستان اور قیامِ امام حسین علیہ السلام دونوں ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اصول، ایمان اور قربانی ہی کامیابی کا راستہ ہیں۔ آج ہمیں عہدی کرنا چاہیے کہ ہم اس وطن کو امن، انصاف اور ترقی کی مثال بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام پاکستان میں پاکستان کے پاکستان کا انہوں نے کی حفاظت کے قیام کا قیام کے لیے ہیں کہ اور اس

پڑھیں:

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم لاہور میں انتقال کرگئے۔جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ  امیرالعظیم صاحب اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔

سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم طویل عرصے سے علیل اور کینسر کے مرض سے نبرد آزما تھے۔امیرالعظیم کی نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔امیرالعظیم جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

لاہور میں 1958 میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے انہیں 2019 اور 2024 میں موجودہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے انہیں مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو