قطر میں اسرائیل کیساتھ جنگ بندی مذاکرات پھر شروع؛ حماس نے تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
حماس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور قطر میں شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کی تصدیق حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے رائٹرز سے گفتگو میں کی۔
حماس رہنما نے بتایا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات بغیر کسی پیشگی شرائط کے ہو رہے ہیں۔ جس میں اب تک کے تمام معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ان مذاکرات کا مقصد غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری خونریز جنگ کو ختم کرنا اور متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
خیال رہے کہ ان مذاکرات کا پھر سے آغاز قطر، مصر اور امریکا کی مشترکہ کوششوں کے باعث ممکن ہوا ہے۔
ان مذاکرات میں اسرائیلی وفد اور حماس کے نمائندے بالواسطہ طور پر شامل ہیں جب کہ ثالثی کا کردار قطر اور مصر ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی، قیدیوں کے تبادلے اور مستقبل کے سیاسی حل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس حوالے سے قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں گفتگو کے بعد پائیدار اور منصفانہ جنگ بندی معاہدے پر متفق ہوجائیں گے۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں فریقین کو ایک عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے جسے بعد میں مستقل سیاسی حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
دوحہ میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی دوبارہ عروج پر ہے اور عالمی برادری ایک فوری اور مستقل حل کی متلاشی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غزہ میں معصوم شہریوں کی بھوک سے اموات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلد ہی اس مسئلے کی حل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔