زمانہ طالب علمی کی بات ہے، اس وقت میں انٹرکامرس کا طالب علم تھا، کالج میں میری دوستی جہاں میرے ہم جماعت طالب علم ساتھیوں سے تھی وہاں میرے مراسم کالج میں موجود سیاسی اور دینی سیاسی جماعتوں سے منسلک طلبا تنظیموں کے عہدیداران اور کارکنان سے بھی تھے۔
یہ کارکنان عمومی طور پر کالج کے طلبا کو نہ صرف اپنا ہم خیال بنانے میں مصروف عمل رہتے تھے بلکہ ان طلبا کو اپنی اپنی تنظیموں میں شمولیت کی دعوت بھی دیتے تھے۔ میں کیونکہ آزاد سوچ کا حامل رہا ہوں اس لیے کسی سیاسی اور دینی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بن سکا، تاہم ان طلبا تنظیموں کے عہدیداران کے توسط سے ملنے والے لٹریچر کے ذریعے مجھے سیاسی اور دینی سیاسی جماعتوں کے بارے میں جاننے کا موقعہ ملا۔
اس کے مطالعے سے میرا ذہن کچھ اس طرح کا بن گیا کہ میں سیاست کو ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی کا اہم ذریعہ تصور کرنے لگا، مذہب کی بھی صرف سیاسی تعبیر سے متاثر تھا۔ دیگر علوم بالخصوص شعر و ادب کو غیر اہم اور غیر افادی سرگرمیاں قرار دیتا اور اسے سطحی حیثیت بھی دینے کو تیار نہ تھا، لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا اور جیسے جیسے سماجی شعور میں اضافہ ہوا، شعر و ادب سے متعلقہ لٹریچر کے مطالعے اور ادبی شخصیات سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا تو ادب کے حوالے سے میری منفی سوچ میں تبدیلی آئی اور میں اس کی اہمیت اور افادیت کا قائل ہو گیا۔
میرے نزدیک انسان میں احساس کی قوت ہی ہے جو اسے انسان ہونے کا شرف عطا کرتی ہے۔ شعر و ادب نہ صرف انسان میں احساس کی قوت بیدار کرتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کو متوازن شخصیت بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔شعر و ادب مذہب کی طرح نیکی اور بدی کا فرق نہیں بتاتا اور نہ ہی یہ نیکی کی برائے راست تلقین کرتا ہے اور نہ ہی سائنس کی طرح تجربات کی روشنی میں اپنی بات واضح کرتا ہے، نہ ہی سیاست کی طرح تصادم کی راہ اختیار کرتا ہے بلکہ ایک ادیب غیر محسوس انداز میں اپنی کہانی، افسانے، ناول اور شاعری کے ذریعے آپ کے دل و دماغ میں اتر کر آپ کے زاویہ نگاہ کو تبدیل کر دیتا ہے
ادب کی زبان رسیلی ہوتی ہے، ادبی اسلوب میں لکھی گئی تحریر میں ایسا رس ہوتا ہے کہ ناگوار سے ناگوار بات ناگوار محسوس نہیں ہوتی۔ تخلیق میں جتنا رس ہوگا تخلیق اتنی موثر اور فکر انگیز ہوگی۔شعر و ادب لفظوں کا کھیل ہے جب تک لفظوں سے آگاہی نہ ہو تب تک معیاری ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ سوچ، تصور، خیال لفظوں میں ڈھل کر اپنا وجود پاتے ہیں۔ جب لفظ خوبصورتی کا روپ دھار لیتے ہیں تو ادب جنم لیتا ہے۔
ادب کا کام خارجی دنیا اور انسان کی داخلی دنیا کے تجربات کا شعور حاصل کر کے اس طرح پیش کرنا کہ انسان کے اپنے اندر زندگی کا نیا شعور اور ادراک پیدا ہو سکے۔ادب کسی ہنگامی ضرورت کے تحت وجود میں نہیں آتا، یہ تو ایک تاریخ گیر صورت حال اور احساس اور تخلیقی ادراک سے وجود میں آتا ہے اور انسان کے باطن سے اٹھتا ہے اور جذبات کی تہذیب و تربیت کرتا ہے۔احساس کا وجود ہونا ہی ادب کا جوہر ہے جب آپ گرد و پیش کی دنیا اور خارجی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں تو آپ کے اندر کا حساس حصار توڑ کر باہر نکلتا ہے تو وہ شعر و ادب کا روپ دھار لیتا ہے۔
ادب ہی وہ آئینہ ہے جس میں زندگی اپنی صورت دیکھتی ہے۔ موجودہ دور مادیت پرستی کا دور ہے۔ استحصال، نفرت، ظلم، ناانصافی، بغض، حسد جیسے رویے اسی مادیت پرستی کی پیداوار ہیں۔ اس مادیت پرستی نے انسان کو بے سکونی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ شعر و ادب کو فروغ دیا جائے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمارا ادب جمود کا شکار ہے، یہ بات جزوی طور پر درست ہے کلی طور پر درست نہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ادب سماج سے جڑا ہوتا ہے، اصل جمود معاشرے میں پیدا ہوا ہے، ادب میں جمود نہیں، جب معاشرہ ادب کے ذریعے شعور حاصل کرنا بند کر دیتا ہے تو معاشرے میں جمود کا آنا لازم ہے۔سوال یہ ہے کہ ادب کو فروغ کیسے دیا جائے۔
میری ذاتی رائے میں ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ادب میں موجود گروہ بندیاں ہیں جس کی وجہ سے ادب کو نقصان ہو رہا ہے۔ نظریاتی حوالے سے مزاج اور سوچ کا ایک دوسرے سے اختلاف ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن جب یہ اختلافات اپنی فطری حدود سے نکل کر ذاتی رنجش میں تبدیل ہو جائیں تو اسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں گروہ بندیاں ہم خیال یا مشترکہ خیال کی بنیاد پر نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں۔دراصل ہمارے یہاں ادب میں ایسے لوگ شامل ہوگئے ہیں جن کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی وژن۔
یہ لوگ نظریہ شہرت، خود نمائی اور خود ستائش کے جذبے کے تحت اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جس کے سبب ادب میں گروہ بندی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اس گروہ بندی کے سبب باصلاحیت لکھنے والے پذیرائی سے محروم رہتے ہیں اور خوشامدی، چاپلوس اور موقعہ پرست سطحی قسم کا ادب تخلیق کرنے والے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔سیاست کا مزاج تصادم کا ہوتا ہے۔ ادب محبت کا درس دیتی ہے، جب کوئی ادب کسی خاص گروہ یا نظریے سے منسلک ہو جاتا ہے تو نہ صرف ادب کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے بلکہ پھر ’’ادب‘‘ ادب نہیں رہتا بلکہ پروپیگنڈا بن جاتا ہے۔
جب ادب کو شعوری طور پر اس پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو پھر ادب ایک نعرہ بن جاتا ہے۔ یہ نعرہ بازی ادب کے فن کی موت ہے۔ادب میں ابلاغ کو اولین حیثیت حاصل ہے، اگر ادب میں ابلاغ نہیں تو ادب کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں وہ ’’ادب‘‘ ادب ہی نہیں جو ہماری سوچ کا دھارا نہ بدل سکے اور ہمیں عمل پر آمادہ نہ کر سکے۔ بدقسمتی سے ہمارا ادب اس عنصر سے خالی نظر آتا ہے جس کی وجہ سے ادب جمود کا شکار ہے۔میرے نزدیک جب تک انسان کے اندر احساس موجود ہے جب تک انسان میں نئے نئے تجربوں سے متاثر ہونے اور ان کے سمجھنے کا شعور موجود ہے ادب تخلیق ہوتا رہے گا۔ماضی میں بھی ادب گروہ بندی کا شکار رہا ہے لیکن یہ گروہ بندی نظریاتی بنیادوں پر تھی جس میں مقابلے کی فضا تھی اس مقابلے کی وجہ سے ہر گروہ نے بہترین ادب تخلیق کیا۔
اب ’’ادب‘‘ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی نہیں بلکہ ادب برائے مفاد پرست کی بنیاد پر ہے۔ اس سے نجات کی ایک ہی صورت ہے کہ تمام اہل قلم، ادیب و شاعر گروہ بندی سے بے نیاز ہو کر ادب میں ذہنی ہم آہنگی اور اجتماعیت کا احساس پیدا کرکے ایسی فضا تیار کریں کہ اس سے ادب کو فروغ حاصل ہو۔ ادبی تحریریں کبھی پاس نہیں ہوتیں بڑا ادب وہی ہے جس کو جب بھی پڑھا جائے اس کی تازگی محسوس ہو۔
یاد رکھیں ادب میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو ادب کو انفرادیت بخشتے ہیں یا اس میں کوئی نیا پہلو پیش کرتے ہیں محض گروہ بندی کے سہارے اپنا قد اونچا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا البتہ اس سے ادب کو نقصان ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔