Express News:
2026-07-24@03:10:05 GMT

ادب کا مطالعہ ضروری کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

 زمانہ طالب علمی کی بات ہے، اس وقت میں انٹرکامرس کا طالب علم تھا، کالج میں میری دوستی جہاں میرے ہم جماعت طالب علم ساتھیوں سے تھی وہاں میرے مراسم کالج میں موجود سیاسی اور دینی سیاسی جماعتوں سے منسلک طلبا تنظیموں کے عہدیداران اور کارکنان سے بھی تھے۔

یہ کارکنان عمومی طور پر کالج کے طلبا کو نہ صرف اپنا ہم خیال بنانے میں مصروف عمل رہتے تھے بلکہ ان طلبا کو اپنی اپنی تنظیموں میں شمولیت کی دعوت بھی دیتے تھے۔ میں کیونکہ آزاد سوچ کا حامل رہا ہوں اس لیے کسی سیاسی اور دینی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بن سکا، تاہم ان طلبا تنظیموں کے عہدیداران کے توسط سے ملنے والے لٹریچر کے ذریعے مجھے سیاسی اور دینی سیاسی جماعتوں کے بارے میں جاننے کا موقعہ ملا۔

اس کے مطالعے سے میرا ذہن کچھ اس طرح کا بن گیا کہ میں سیاست کو ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی کا اہم ذریعہ تصور کرنے لگا، مذہب کی بھی صرف سیاسی تعبیر سے متاثر تھا۔ دیگر علوم بالخصوص شعر و ادب کو غیر اہم اور غیر افادی سرگرمیاں قرار دیتا اور اسے سطحی حیثیت بھی دینے کو تیار نہ تھا، لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا اور جیسے جیسے سماجی شعور میں اضافہ ہوا، شعر و ادب سے متعلقہ لٹریچر کے مطالعے اور ادبی شخصیات سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا تو ادب کے حوالے سے میری منفی سوچ میں تبدیلی آئی اور میں اس کی اہمیت اور افادیت کا قائل ہو گیا۔

میرے نزدیک انسان میں احساس کی قوت ہی ہے جو اسے انسان ہونے کا شرف عطا کرتی ہے۔ شعر و ادب نہ صرف انسان میں احساس کی قوت بیدار کرتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کو متوازن شخصیت بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔شعر و ادب مذہب کی طرح نیکی اور بدی کا فرق نہیں بتاتا اور نہ ہی یہ نیکی کی برائے راست تلقین کرتا ہے اور نہ ہی سائنس کی طرح تجربات کی روشنی میں اپنی بات واضح کرتا ہے، نہ ہی سیاست کی طرح تصادم کی راہ اختیار کرتا ہے بلکہ ایک ادیب غیر محسوس انداز میں اپنی کہانی، افسانے، ناول اور شاعری کے ذریعے آپ کے دل و دماغ میں اتر کر آپ کے زاویہ نگاہ کو تبدیل کر دیتا ہے

ادب کی زبان رسیلی ہوتی ہے، ادبی اسلوب میں لکھی گئی تحریر میں ایسا رس ہوتا ہے کہ ناگوار سے ناگوار بات ناگوار محسوس نہیں ہوتی۔ تخلیق میں جتنا رس ہوگا تخلیق اتنی موثر اور فکر انگیز ہوگی۔شعر و ادب لفظوں کا کھیل ہے جب تک لفظوں سے آگاہی نہ ہو تب تک معیاری ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ سوچ، تصور، خیال لفظوں میں ڈھل کر اپنا وجود پاتے ہیں۔ جب لفظ خوبصورتی کا روپ دھار لیتے ہیں تو ادب جنم لیتا ہے۔

ادب کا کام خارجی دنیا اور انسان کی داخلی دنیا کے تجربات کا شعور حاصل کر کے اس طرح پیش کرنا کہ انسان کے اپنے اندر زندگی کا نیا شعور اور ادراک پیدا ہو سکے۔ادب کسی ہنگامی ضرورت کے تحت وجود میں نہیں آتا، یہ تو ایک تاریخ گیر صورت حال اور احساس اور تخلیقی ادراک سے وجود میں آتا ہے اور انسان کے باطن سے اٹھتا ہے اور جذبات کی تہذیب و تربیت کرتا ہے۔احساس کا وجود ہونا ہی ادب کا جوہر ہے جب آپ گرد و پیش کی دنیا اور خارجی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں تو آپ کے اندر کا حساس حصار توڑ کر باہر نکلتا ہے تو وہ شعر و ادب کا روپ دھار لیتا ہے۔

ادب ہی وہ آئینہ ہے جس میں زندگی اپنی صورت دیکھتی ہے۔ موجودہ دور مادیت پرستی کا دور ہے۔ استحصال، نفرت، ظلم، ناانصافی، بغض، حسد جیسے رویے اسی مادیت پرستی کی پیداوار ہیں۔ اس مادیت پرستی نے انسان کو بے سکونی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ شعر و ادب کو فروغ دیا جائے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمارا ادب جمود کا شکار ہے، یہ بات جزوی طور پر درست ہے کلی طور پر درست نہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ادب سماج سے جڑا ہوتا ہے، اصل جمود معاشرے میں پیدا ہوا ہے، ادب میں جمود نہیں، جب معاشرہ ادب کے ذریعے شعور حاصل کرنا بند کر دیتا ہے تو معاشرے میں جمود کا آنا لازم ہے۔سوال یہ ہے کہ ادب کو فروغ کیسے دیا جائے۔

میری ذاتی رائے میں ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ادب میں موجود گروہ بندیاں ہیں جس کی وجہ سے ادب کو نقصان ہو رہا ہے۔ نظریاتی حوالے سے مزاج اور سوچ کا ایک دوسرے سے اختلاف ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن جب یہ اختلافات اپنی فطری حدود سے نکل کر ذاتی رنجش میں تبدیل ہو جائیں تو اسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں گروہ بندیاں ہم خیال یا مشترکہ خیال کی بنیاد پر نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں۔دراصل ہمارے یہاں ادب میں ایسے لوگ شامل ہوگئے ہیں جن کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی وژن۔

یہ لوگ نظریہ شہرت، خود نمائی اور خود ستائش کے جذبے کے تحت اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جس کے سبب ادب میں گروہ بندی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اس گروہ بندی کے سبب باصلاحیت لکھنے والے پذیرائی سے محروم رہتے ہیں اور خوشامدی، چاپلوس اور موقعہ پرست سطحی قسم کا ادب تخلیق کرنے والے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔سیاست کا مزاج تصادم کا ہوتا ہے۔ ادب محبت کا درس دیتی ہے، جب کوئی ادب کسی خاص گروہ یا نظریے سے منسلک ہو جاتا ہے تو نہ صرف ادب کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے بلکہ پھر ’’ادب‘‘ ادب نہیں رہتا بلکہ پروپیگنڈا بن جاتا ہے۔

جب ادب کو شعوری طور پر اس پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو پھر ادب ایک نعرہ بن جاتا ہے۔ یہ نعرہ بازی ادب کے فن کی موت ہے۔ادب میں ابلاغ کو اولین حیثیت حاصل ہے، اگر ادب میں ابلاغ نہیں تو ادب کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں وہ ’’ادب‘‘ ادب ہی نہیں جو ہماری سوچ کا دھارا نہ بدل سکے اور ہمیں عمل پر آمادہ نہ کر سکے۔ بدقسمتی سے ہمارا ادب اس عنصر سے خالی نظر آتا ہے جس کی وجہ سے ادب جمود کا شکار ہے۔میرے نزدیک جب تک انسان کے اندر احساس موجود ہے جب تک انسان میں نئے نئے تجربوں سے متاثر ہونے اور ان کے سمجھنے کا شعور موجود ہے ادب تخلیق ہوتا رہے گا۔ماضی میں بھی ادب گروہ بندی کا شکار رہا ہے لیکن یہ گروہ بندی نظریاتی بنیادوں پر تھی جس میں مقابلے کی فضا تھی اس مقابلے کی وجہ سے ہر گروہ نے بہترین ادب تخلیق کیا۔

اب ’’ادب‘‘ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی نہیں بلکہ ادب برائے مفاد پرست کی بنیاد پر ہے۔ اس سے نجات کی ایک ہی صورت ہے کہ تمام اہل قلم، ادیب و شاعر گروہ بندی سے بے نیاز ہو کر ادب میں ذہنی ہم آہنگی اور اجتماعیت کا احساس پیدا کرکے ایسی فضا تیار کریں کہ اس سے ادب کو فروغ حاصل ہو۔ ادبی تحریریں کبھی پاس نہیں ہوتیں بڑا ادب وہی ہے جس کو جب بھی پڑھا جائے اس کی تازگی محسوس ہو۔

یاد رکھیں ادب میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو ادب کو انفرادیت بخشتے ہیں یا اس میں کوئی نیا پہلو پیش کرتے ہیں محض گروہ بندی کے سہارے اپنا قد اونچا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا البتہ اس سے ادب کو نقصان ہوتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف